درست کرے۔اس کے جواب میں ہر چند حضرت مسیح نے بہت زور دے کر انہیں کہا کہ وہ ایلیاؔ جو آنے والا تھا یہی یحیٰی زکریاکا بیٹا ہے جس کو تم نے شناخت نہیں کیا لیکن یہودیوں نے مسیح کے اس قول کو ہرگز قبول نہیں کیا بلکہ خیال کیا کہ یہ شخص توریت کی پیشگوئیو ں میں الحاد اور تحریف کر رہاہے اور اپنے مرشد کو ایک عظمت دینے کے لئے ظاہری معنے کو کھینچ تان کر کچھ کا کچھ ؔ بنا رہا ہے سو ظاہر پرستی کی شامت نے یہودیوں کو حقیقت فہمی سے محروم رکھا اور مجرّد الفاظ پر زور مارنے اور استعارہ کو حقیقت سمجھنے کی وجہ سے ابدی لعنتوں کا ذخیرہ انہیں ملا بقیہ حاشیہ۔قادیان کے قریب اتارا ہے اور سچائی کے ساتھ اُتارا اور سچائی کے ساتھ اُترا اور ایک دن وعدہ اللہ کاپور ا ہونا تھا۔ اس الہام پر نظرغور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قادیان میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے اس عاجز کا ظاہر ہونا الہامی نوشتوں میں بطور پیشگوئی کے پہلے سے لکھاگیا تھا۔ اب چونکہؔ قادیان کو اپنی ایک خاصیت کی رُو سے دمشق سے مشابہت دی گئی تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قادیان کا نام پہلے نوشتوں میں استعارہ کے طورپر دمشق رکھ کرپیشگوئی بیان کی گئی ہو گی کیونکہ کسی کتاب حدیث یاقرآن شریف میں قادیان کا نام لکھاہوانہیں پایاجاتا اور یہ الہام جو بَراہین احمدیہ میں بھی چھپ چکا ہے بصراحت وبآواز بلندظاہرکر رہا ہے کہ قادیان کانام قرآن شریف میں یا احادیث نبویہ میں بمدپیشگوئی ضرور موجود ہے اور چونکہ موجود نہیں تو بجز اس کے اَور کس طرف خیال جاسکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے قادیان کا نام قرآن شریف یا احادیث نبویہ میں کسی اور پیرایہ میں ضرور لکھا ہوگا اور اب جو ایک نئے الہام سے یہ بات بپایۂ ثبوت پہنچ گئی کہ قادیان کو خدائے تعالیٰ کے نزدیک دمشق سے مشابہت ہے تو اُس پہلے الہام کے معنے بھی اس سے کھل ؔ گئے گویا یہ فقرہ جو اللہ جلّشانُہ‘ نے الہام کے طور پر اس عاجز کے دل پر القاکیاہے کہ انا انزلناہ قریبًا من القادیان اس کی تفسیریہ ہے کہ انا انزلناہ قریبا من دمشق بطرف شرقی عند المنارۃ البیضاء۔ کیونکہ اس عاجز کی سکونتی جگہ قادیان کے شرقی کنارہ پر ہے منارہ کے پاس۔ پس یہ فقرہ الہام الٰہی کا کہ کان وعد اللّٰہ مفعولًا اس تاویل سے پوری پوری تطبیق کھاکر یہ پیشگوئی واقعی طورپر پوری ہوجاتی ہے اس عبارت تک یہ عاجز پہنچا تھا کہ یہ الہام ہؤاقل لو کان الامر من عند غیر اللّٰہ لوجدتم