کسی اُونچی عمارت پر آکر اُتاردیں گے پھرکسی زینہ کے ذریعہ سے حضر ت ایلیاؔ نیچے اُتر آئیں گے اور یہودیوں کے تمام مخالفوں کو روئے زمین سے نابود کر ڈالیں گے اور چونکہ اُن کی کتابوں میں جوکتب الہامیہ ہیں یہ بھی لکھا ہے کہ ضرور ہے کہ مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا آسمان سے اُترے اِسی دِقّت کی وجہ سے یعنی اِس سبب سے کہ ایلیا اُن کے گمان میں اب تک آسماؔ ن سے نہیں اُترا مسیح ابن مریم پر وہ ایمان نہیں لائے اور صاف کہہ دیا کہ ہم نہیں جانتے کہ تو کون ہے کیونکہ وہ مسیح جس کی ہمیں انتظار ہے ضرور ہے کہ اُس سے پہلے ایلیا آسمان سے اُتر کر اُس کی راہوں کو بقیہ حاشیہ۔اب پہلے ہم یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر فرمادیاہے کہ یہ قصبہ قادیان بوجہ اس کے کہ اکثر یزیدی الطبع لوگ اس میں سکونت رکھتے ہیں دمشق سے ایک مناسبت اور مشابہت رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ تشبیہات میں پور ی پوری تطبیق کی ضرور ت نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات ایک ادنیٰ مماثلت کی وجہ سے بلکہ صرف ایک جزو میں مشارکت کے باعث ؔ سے ایک چیز کانام دوسری چیز پر اطلاق کر دیتے ہیں مثلًا ایک بہادر انسان کو کہہ دیتے ہیں کہ یہ شیر ہے اور شیر نام رکھتے ہیں یہ ضروری نہیں سمجھاجاتا کہ شیر کی طرح اس کے پنجے ہوں اور ایسی ہی بدن پر پشم ہو اور ایک دُم بھی ہو بلکہ صرف صفت شجاعت کے لحاظ سے ایسا اطلاق ہوجاتا ہے اور عام طور پر جمیع انواع استعارات میں یہی قاعدہ ہے سو خدائے تعالیٰ نے اسی عام قاعدہ کے موافق اس قصبہ قادیان کو دمشق سے مشابہت دی اور اس بارہ میں قادیان کی نسبت مجھے یہ بھی الہام ہوا کہ اخرج منہ الیزیدیون یعنی اس میں یزیدی لوگ پیداکئے گئے ہیں۔ اب اگرچہ میرا یہ دعویٰ تو نہیں اور نہ ایسی کامل تصریح سے خدائے تعالیٰ نے میرے پر کھول دیا ہے کہ دمشق میں کوئی مثیل مسیح پیدا نہیں ہو گا بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ کسی ؔ آئندہ زمانہ میں خاص کر دمشق میں بھی کوئی مثیل مسیح پیدا ہوجائے مگر خدائے تعالیٰ خوب جانتا ہے اور وہ اس بات کا شاہد حا ل ہے کہ اس نے قادیان کو دمشق سے مشابہت دی ہے اور ان لوگوں کی نسبت یہ فرمایا ہے کہ یہ یزیدی الطبع ہیں یعنی اکثر وہ لوگ جو اس جگہ رہتے ہیں وہ اپنی فطرت میںیزیدی لوگوں کی فطرت سے مشابہ ہیں اور یہ بھی مدّت سے الہام ہو چکا ہے کہ انا انزلناہ قریبًا من القادیان وبالحق انزلناہ وبالحق نزل وکان وعداللّٰہ مفعولًا یعنی ہم نے اُس کو