دی کہ وہ ایلیا جس کا آسمان سے اُترنا انتظارکیا جاتاہے یہی یحیٰ زکریا کا بیٹاہے کہ جو آپ کا مرشدؔ ہے لیکن یہودیوں نے قبول نہ کیا بلکہ انہی باتوں سے حضرت مسیح پر سخت ناراض ہو گئے اور حضرت مسیح کی نسبت یہ خیال کرنے لگے کہ وہ توریت کی عبارتوں کو اَور اَور معنے کر کے بگاڑنا چاہتاہے کیونکہ انہیں اپنے جسمانی خیال کی وجہ سے پختہ طوؔ ر پر امید لگی ہوئی تھی چنانچہ ابھی تک وہی خیال خام دل میں ہے کہ سچ مچ ایلیا یہودیوں کی جماعت کے سامنے آسمان سے اُترے گا اور فرشتے اُس کے دائیں بائیں اپنے ہاتھوں کا سہارادے کر بیت المقدس کی
بقیہ حاشیہ۔کلام نہیں ہوگی اس لئے خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ آنے والے زمانہ کو بھی اس کی عظمت سے اور مسیحی مشابہت سے متنبہ کرے اس وجہ سے دمشق کا لفظ بطور استعارہ لیا گیا تا پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آجائے جس میں لخت جگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مسیح کی طرح کمال درجہ کے ظلم اور جور وجفا کی راہ سے دمشقی اشقیا کے محاصرہ میں آکر قتل کئے گئے۔ سو خدائے تعالیٰ نے اس دمشق کو جس سے ایسے پُر ظلم احکام نکلتے تھے اور جس میں ایسے سنگدل اور سیاہ درون لوگ پیدا ہوگئے تھے اس غرض سے نشانہ بنا کر لکھا کہ اب مثیل دمشق عدل اور ایمان پھیلانے کا ہیڈؔ کوارٹر ہوگا۔ کیونکہ اکثر نبی ظالموں کی بستی میں ہی آتے رہے ہیں اور خدا تعالیٰ *** کی جگہوں کو برکت کے مکانات بناتا رہا ہے اس استعارہ کو خدائے تعالیٰ نے اس لئے اختیار کیا کہ تا پڑھنے والے دو فائدے اس سے حاصل کریں ایک یہ کہ امام مظلوم حسین رضی اللہ عنہ کا دردناک واقعۂ شہادت جس کی دمشق کے لفظ میں بطورپیشگوئی اشارہ کی طرز پر حدیث نبوی میں خبر دی گئی ہے اس کی عظمت اور وقعت دلوں پر کھل جائے۔ دوسرے یہ کہ تا یقینی طور پر معلوم کرجاویں کہ جیسے دمشق میں رہنے والے دراصل یہودی نہیں تھے مگر یہودیوں کے کا م انہوں نے کئے ایسا ہی جو مسیح اُترنے والا ہے دراصل مسیح نہیں ہے مگر مسیح کی روحانی حالت کا مثیل ہے اور اس جگہ بغیر اس شخص کے کہ جس کے د ل میں واقعہ حسین کی وہ عظمت نہ ؔ ہو جو ہونی چاہیئے ہریک شخص اس دمشقی خصوصیت کو جو ہم نے بیان کی ہے بکمال انشراح ضرور قبول کرلے گا اور نہ صرف قبول بلکہ اس مضمون پر نظر امعان کرنے سے گویا حق الیقین تک پہنچ جائے گا اور حضرت مسیح کو جو امام حسین رضی اللہ عنہ سے تشبیہ دی گئی ہے یہ بھی استعارہ در استعارہ ہے جس کو ہم آگے چل کر بیان کریں گے