گیاہو پورا ہو جائے حالانکہ ایساہرگز نہیں ہوتا مثلًا مسیح کی نسبت بعض بائیبل کی پیشگوئیوں میں یہ درج تھا کہ وہ بادشاہ ہو گا لیکن چونکہ مسیح غریبوں اور مسکینوں کی صورت پر ظاہر ہوا اس لئے یہودیو ں نے اس کو قبول نہؔ کیا اور اِس ردّ اور انکار کی وجہ صرف الفاظ پرستی تھی کہ انہوں نے بادشاہت کے لفظ کو فقط ظاہر پر محمول کر لیا۔ایسا ہی حضرت موسیٰ کی توریت میں ہمارے سیّد و مولیٰ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ پیشگوئی درج تھی کہ وہ بھی بنی اسرائیل میںؔ سے اور اُن کے بھائیوں میں سے پیدا ہو گا اس لئے یہودی لوگ اس پیشگوئی کا منشا یہی سمجھتے رہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے پیدا ہو گا حالانکہ بنی اسرائیل کے بھائیوں سے بنی اسماعیل مراد ہیں خدائے تعالیٰ قادر تھا کہ بجائے بنی اسرائیل کے بھائیو ں کےؔ بنی اسماعیل ہی لکھ دیتا
بقیہ حاشیہ۔ اور نہ کوئی ایسی بات ہے کہ جو تصنّع اور بناوٹ سے گھڑنی پڑتی ہے بلکہ یہ عادت انبیاء کی شائع متعارف ہے کہ وہ روح القدس سے پُر ہو کر مثالوں اور استعاروں میں بولا کرتے ہیں اور وحی الٰہی کو یہی طرز پسند آئی ہوئی ہے کہ اِس جسمانی عالم میں جو کچھ آسمان سے اُتارا جاتا ہے اکثر اس میں استعارات ومجازات پُر ہوتے ہیں عام طور پر جو ہرایک فرد بشر کو کوئی نہ کوئی سچیؔ خواب آجاتی ہے جو نبوت کا چھیالیسواں ۴۶ حصہ بیان کی گئی ہے اُس کے اجزاپر بھی اگر نظر ڈال کر دیکھو تو شاذو نادر کوئی ایسی خواب ہو گی جو استعارات اور مجازات سے بکلی خالی ہو۔
اب یہ بھی جاننا چاہیئے کہ دمشق کا لفظ جو مسلم کی حدیث میں وارد ہے یعنی صحیح مسلم میں یہ جو لکھا ہے کہ حضرت مسیح دمشق کے منارہ سفید شرقی کے پاس اُتریں گے یہ لفظ ابتدا سے محقق لوگوں کو حیران کرتا چلا آیا ہے کیونکہ بظاہر کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کو دمشق سے کیا مناسبت ہے اور دمشق کو مسیح سے کیا خصوصیت۔ ہاں اگر یہ لکھا ہوتا کہ مسیح مکّہ معظمہ میں اُترے گا یا مدینہ منورہ میں نازل ہوگا تو ان ناموں کا ظاہرپر حمل کرنا موزوں بھی ہوتا۔ کیونکہ مکّہ معظمہ خانہ خدا کی جگہ اور مدینہ منورہ رسول اللہ کا پا یہؔ تخت ہے مگر دمشق میں توکوئی ایسی خوبی کی بات نہیں جس کی وجہ سے تمام امکنہ متبرکہ چھوڑکر نزول کے لئے صرف دمشق کو مخصوص کیاجائے۔ اِس جگہ بلاشبہ استعارہ کے طور پر کوئی مرادی معنے مخفی ہیں جو ظاہر نہیں کئے گئے اور یہ عاجز ابھی اس بات کی تفتیش کی طرف متوجہ نہیں ہواتھا کہ وہ معنے کیا ہیں کہ اسی اثناء میں میرے ایک دوست