صورت اور رنگ کا نہیں ہے جس صورت پر لوگ خیال کر رہے ہیں اورباوجود عام طور پر استعارات کے پائے جانے کے جن سے حدیثیں پُر ہیں۔اور مکاشفات اوررویاءِؔ صالحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے بھری پڑی ہیں۔پھر دمشق کے لفظ سے دمشق ہی مراد رکھنا دعویٰ بلا دلیل و التزام مالایلزم ہے *۔اور یہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدائے تعالیٰ کی پیشگوئیوں میں بعض امور کا اخفا اور بعض کا اظہارہو تاؔ ہے اور ایسا ہونا شاذونادر ہے کہ من کل الوجوہ اظہارہی ہو کیونکہ پیشگوئیوں میں حضرت باری تعالیٰ کے ارادہ میں ایک قسم کی خلق اللہ کی آزمائش بھی منظور ہوتی ہے اور اکثر پیشگوئیاں اس آیت کا مصداق ہوتی ہیں کہ ۱ يُضِلُّ بِهٖ ڪَثِيْرًا وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ؂ اسی وجہ سے ہمیشہ ظاہر پرست لوگ امتحان میں پڑ کر پیشگوئی کے ظہور کے وقت دھوکا کھاجاتے ہیں اور زیادہ تر انکار کرنے والے اور حقیقت مقصودہ سے بے نصیب رہنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں کہ جو چاہتے ہیں کہ حرف حر فؔ پیشگوئی کا ظاہری طور پر جیساکہ سمجھا * حاشیہ استعاؔ رات جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکاشفات اور خوابوں میں پائے جاتے ہیں وہ حدیثوں کے پڑھنے والوں پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہیں کبھی کشفی طورپر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں میں دو سونے کے کڑے پہنے ہوئے دکھائی دئے اور اُن سے دوکذّاب مراد لئے گئے جنہوں نے جھوٹے طور پر پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اور کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رؤیا اور کشف میں گائیاں ذبح ہوتی نظر آئیں اور ان سے مراد وہ صحابہ تھے جو جنگِ اُحد میں شہید ہوئے اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ ایک بہشتی خوشہ انگور ابوجہل کے لئے آپکو دیا گیا ہے تو آخر اُس سے مراد عکرمہ نکلا اور ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کشفی طورپر نظر آیا کہ گویا ؔ آپ نے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کی ہے کہ وہ آپ کے خیال میں یمن ۲؂ تھا۔ مگر درحقیقت اس زمین سے مراد مدینہ منورہ تھا۔ ایسا ہی بہت سی نظیریں دوسرے انبیاء کے مکاشفات میں پائی جاتی ہیں کہ بظاہر صورت اُن پر کچھ ظاہر کیا گیا اور دراصل اس سے مراد کچھ اَور تھا سو انبیا کے کلمات میں استعارہ اور مجاز کا دخل ہونا کوئی شاذ ونادر امر نہیں ہے