تاکروڑ ہا آدمی ہلاکت سے بچ جاتے مگراُس نے ایسانہیں کیا کیونکہ اس کو ایک عقدہ درمیان میں رکھ کرصادقوں اور کاذبوں کا امتحان منظور تھااِسی بناپر اور اِسی مدعاکی غرض سے تمثیل کے پیرایہ میں یا استعارہ کےؔ طور پر بہت باتیں ہوتی ہیں جن پر نظر ڈالنے والے دوگروہ ہو جاتے ہیں ایک وہ گروہ جو فقط ظاہر پرست اور ظاہر بین ہوتاہے اور استعارات سے بکلی منکر ہو کر اُن پیشگوئیوں کے ظہور کو ظاہری صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔یہ وہ گروہ ہے کہ جو وقتؔ پر حقیقتِ حقّہ کے ماننے سے اکثر بے نصیب اور محروم رہ جاتا ہے بلکہ سخت درجہ کی عداوت اور
بقیہ حاشیہ۔اور محب واثق مولوی حکیم نور الدین صاحب اس جگہ قادیان میں تشریف لائے اور انہوں نے اس بات کے لئے درخواست کی کہ جو مسلم کی حدیث میں لفظ دمشق و نیز اور ایسے چند مجمل الفاظ ہیں اُن کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی جائے لیکن چونکہ ان دنوں میں میری طبیعت علیل اور دماغ ناقابل جدوجہد تھا اس لئے میں اُن تمام مقاصد کی طرف توجہ کرنے سےؔ مجبور رہا صرف تھوڑی سی توجہ کرنے سے ایک لفظ کی تشریح یعنی دمشق کے لفظ کی حقیقت میرے پرکھولی گئی اور نیز ایک صاف اور صریح کشف میں مجھ پر ظاہر کیاگیا کہ ایک شخص حارث نام یعنی حرّ اث آنے والا جو ابوداؤد کی کتاب میں لکھاہے یہ خبر صحیح ہے اور یہ پیشگوئی اور مسیح کے آنے کی پیشگوئی درحقیقت یہ دونوں اپنے مصداق کی رُو سے ایک ہی ہیں۔ یعنی ان دونوں کا مصداق ایک ہی شخص ہے جو یہ عاجز ہے۔
سو اوّل میں دمشق کے لفظ کی تعبیر جو الہام کے ذریعہ سے مجھ پر کھولی گئی بیان کرتا ہوں پھر بعد اس کے ابو داؤد والی پیشگوئی جس طور سے مجھے سمجھا ئی گئی ہے بیان کروں گا۔
پس واضح ہو کہ دمشق کے لفظ کی تعبیر میں میرے پر منجانب اللہ یہؔ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس جگہ ایسے قصبہ کا نام دمشق رکھا گیا ہے جس میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو یزیدی الطبع اور یزید پلید کی عادات اور خیالات کے پیرَو ہیں جن کے دلوں میں اللہ اور رسول کی کچھ محبت نہیں اور احکام الٰہی کی کچھ عظمت نہیں جنہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اپنے نفس امّارہ کے حکموں کے ایسے مطیع ہیں کہ مقدسوں اور پاکوں کا خون بھی اُن کی نظر میں سہل اور آسان امر ہے اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور خدائے تعالیٰ کا موجود ہونا اُن کی نگاہ میں ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جو انہیں سمجھ نہیں آتا اور چونکہ طبیب کو