مقرر کیا گیا ہے کہ تا تمام قوموں پر دین اسلام کی سچائی کی حجت پوری کرے تا دنیاکی ساری قوموں پر خدائے تعالیٰ کا الزام وارد ہو جائے۔اِسی کی طرف اشار ہ ہے کہ ؔ جو کہا گیا ہے کہ مسیح کے دم سے کافر مریں گے یعنی دلائل بیّنہ اور بَراہین قاطعہ کی رُو سے وہ ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ اسلام کوغلطیوں اور الحاقاتِ بے جا سے منزّہ کر کے وہ تعلیم جو روح اور راستی سے بھری ہوئی ہے خلق اللہ کے سامنے رکھے۔ تیسرا کام مسیح کا یہ ہے کہ ایمانی نور کو ۱؂دنیا کی تمام قوموں کے مستعد دلوں کو بخشے اور منافقوں کو مخلصوں سے الگ کر دیوے۔سو یہ تینوں کام خدائے تعالیٰ نے اس عاجزکے سپُرد کئے ہیں اور حقیقت میں ابتدا سے یہی مقرر ہے کہ مسیح اپنے وقت کا مجدد ہو گا اور اعلیٰ درجہ کی تجدید کی خدمت خدائے تعالیٰ اُس سے لے گا اور یہ تینوں امور وہ ہیں جو خدائے تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے جو اس عاجز کے ذریعہ سے ظہور میں آویں سو وہ اپنے ارادہ کو پوراکرے گا اور اپنے بندہ کامددگار ہو گا۔ اگر یہ کہا جائے کہ احادیث صاف اور صریح لفظوں میں بتلارہی ہیں کہ مسیح ابن مریم آسمان سے اُترے گا اور دمشق کے منارہ شرقیؔ کے پاس اُس کا اُترنا ہو گا اور دوفرشتوں کے کندھوں پر اُس کے ہاتھ ہوں گے تو اس مصرّ ح اور واضح بیان سے کیوں کر انکار کیا جائے؟اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان سے اُترنا اس بات پر دلالت نہیں کرتاکہ سچ مچ خاکی وجود آسمان سے اُترے بلکہ صحیح حدیثوں میں تو آسمان کا لفظ بھی نہیں ہے اور یوں تو نزول کا لفظ عام ہے جو شخص ایک جگہ سے چل کر دوسری جگہ ٹھہرتا ہے اس کو بھی یہی کہتے ہیں کہ اُس جگہ اُترا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں جگہ لشکر اُترا ہے یا ڈیرا اُترا ہے کیا اس سے یہ سمجھا جاتاہے کہ وہ لشکر یا وہ ڈیرا آسمان سے اُتراہے ماسوائے اس کے خدائے تعالیٰ نے تو قرآن شریف میں صاف فرما دیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان سے ہی اُترے ہیں بلکہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ لوہا بھی ہم نے آسمان سے اُتاراہے۔پس صاف ظاہر ہے کہ یہ آسمان سے اُترنا اُس