نجاست اور ہڈیوں کی فروخت سے وہ فوائد حاصل کرتے ہیں کہ اس سے پہلے زمانوں میں اعلیٰ درجہ کے غلوں کی فروخت میں وہ فوائد حاصل نہیں ہو سکتے تھے اور نہ صرف یہی آرام کی صورتیں ہیں بلکہ نظر اُٹھا کر دیکھو تو تمام اسباب معاشرت و حاجات سفر و حضر کے متعلق وہ آرام کی سبیلیں نکل آئی ہیں جو اس سے پہلے وقتوں میںؔ شاید کسی نے خواب میں بھی نہ دیکھی ہوں گی پس اس مبار ک گورنمنٹ کے زمانہ کو اگر اُس امن کے زمانہ میں۱؂ سے مشابہت دیں جو حضرت نوح کے وقت میں تھا تو یہ زمانہ بلاوجہ۲؂ اس کا مثیل غالب ہو گا۔ اب جب کہ یہ ثابت ہو چکا کہ سچے مسیح نے اُس زمانہ میں آنے کا ہرگز وعدہ نہیں کیا جو جنگ و جدل اور جو روجفاکا زمانہ ہو جس میں کوئی شخص امن سے زندگی بسر نہ کر سکے اور نیک لوگ پکڑیں جائیں اور عدالتوں میں سپُرد کئے جائیں اور قتل کئے جائیں بلکہ مسیح نے صاف لفظوں میں فرما دیاکہ اُن پُر فتنہ زمانوں میں جھوٹے مسیح عیسائیوں اور یہودیوں میں پیدا ہوں گے جیساکہ اُن پہلے زمانوں میں کئی لوگ ایسے پیدابھی ہو چکے ہیں جنہوں نے مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تھا اِسی وجہ سے مسیح نے تاکید سے کہا کہ میرا آنا اُن اوائل زمانوں میں ہرگزنہیں ہو گا اور شور اور فساد اور جورو جفااور لڑائیوں کے دنوں میں ہرگز نہیں آؤں گا بلکہ امن کے دنوں میں آؤں گا ہاں اسؔ وقت بباعث غایت درجہ کے امن و آرام کے بے دینی پھیلی ہوئی ہو گی اور محبت الٰہی دلوں سے اُٹھی ہوئی ہو گی جیساکہ نوح کے وقت میں تھا سو یہ ایک نہایت عمدہ نشان ہے جو مسیح نے اپنے آنے کے لئے پیش کیا ہے اگرچاہو تو اس کو قبول کر سکتے ہو۔ اِس جگہ اس سوال کا حل کرنا بھی ضروری ہے کہ مسیح کس عمدہ اور اہم کام کے لئے آنے والا ہے۔ اگر یہ خیال کیا جائے کہ دجّال کے قتل کرنے کے لئے آئے گا تو یہ خیال نہایت ضعیف اور بودا ہے۔کیونکہ صرف ایک کافر کا قتل کرنا کوئی ایسا بڑا کام نہیں جس کے لئے ایک نبی کی ضرورت ہو خاص کر اس صورت میں کہ کہا گیا ہے کہ اگر مسیح قتل بھی نہ کرتا تب بھی دجّال خود بخود پگھل کر نابود ہو جاتا۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مسیح کا آنا اس لئے خدائے تعالیٰ کی طرف سے