کے تحت میں * وہ لوگ ؔ زندگی بسر کرتے ہوں گے جن میں مسیح موعود نازل ہوگا۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ حضرت نوح کا زمانہ باعتبار اپنی معاشرت کے اصولوں کے نہایت امن کا زمانہ تھا لوگ اپنی لمبی لمبی عمروں کو نہایت آسائش اور امن اور خیر و عافیت سے بسر کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ سخت درجہ کے غافل ہوگئے تھے معلوم نہیں کہ اُس وقت کوئی شخصی سلطنت تھی یا جمہوری اتفاق سے اس درجہ پر عامہ خلائق کے لئے ہر طرح سے آسودگی پیدا ہوگئی تھی بہرحال اس زمانہ کے لوگ آرام پانے میں اور امن و عافیت میں زندگی بسر کرنے میں اس زمانہ کے اُن لوگوں سے بہت مشابہ ہیں جوگورنمنٹ برطانیہ کے سایۂ عاطفت کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں گورنمنٹ کی طرف سے جس قدر اسباب آرام اور امن اور خوشحالی کے رعیت کے لئے مہیّا کئے گئے ہیں اُن کا شمار کرنا مشکل ہے گویا اُن کی اس زندؔ گی کو ایک نمونہ بہشت کا بنادیا گیا ہے لیکن غایت درجہ کے آرام پانے سے اور نہایت درجہ کے امن کی وجہ سے یہ آفت دلوں میں پیدا ہو گئی ہے کہ دنیا کی زندگی نہایت شیریں متصور ہو کر دن بدن اس کی محبت دلوں میں بڑھتی جاتی ہے جس طرف نظر ڈال کر دیکھو یہی خواہش جوش مار رہی ہے کہ دنیا کی یہ مراد حاصل ہو جائے وہ مراد حاصل ہو جائے اور بباعث امن پھیل جانے کے دنیاکی ہریک چیز کا قدر بڑھتا جاتاہے۔وہ مزروعہ زمین جس کو سکھوں کے عہد میں کوئی مفت بھی نہیں لے سکتا تھا لاکھوں روپیوں پر فروخت ہو رہی ہے اور یہاں تک مفاد کی راہیں کھل گئی ہیں کہ لوگ * حاشیہ میرؔ ا یہ دعویٰ ہے کہ تمام دنیا میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرح کوئی دوسری ایسی گورنمنٹ نہیں جس نے زمین پر ایسا امن قائم کیا ہو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ ہم پوری آزاد ی سے اس گورنمنٹ کے تحت میں اشاعتِ حق کر سکتے ہیں یہ خدمت ہم مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ میں بیٹھ کر بھی ہرگز بجا نہیں لاسکتے اگر یہ امن اورآزادی اور بے تعصبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے وقت عرب میں ہوتی تو وہ لوگ ہرگز تلوار سے ہلاک نہ کئے جاتے اگریہ امن اور آزادی اور بے تعصبی اُسؔ وقت کے قیصر اور کسریٰ کی گورنمنٹوں میں ہوتی تو وہ بادشاہتیں اب تک قائم رہتیں۔ منہ