چاند روشنی نہ دیوے اور ستارے آسمان کے زمین پر گر جائیں۔سو اِن علامات کو اگر ظاہر پر حمل کیا جائے تو یہ معنے بدیہی البطلان ہیں کیونکہ جس وقت سور ج اندھیراہو گیا اور چاندکی روشنی جاتی رہی تو پھر دنیا کیوں کر نوح کے زمانے کی طرح امن سے آباد رہ سکتی ہے بھلا یہ بھی جانے دو شاید دنیا سخت مصیبت کے ساتھ گذارہ کر سکے لیکن زمین پر ستاروں کے گرنے سے کیا زمین کے باشندوں میں سے کوئی باقی رہ سکتا ہے سچ تو یہ ہے کہ اگر آسمان کا ایک بھی ستارہ زمین پر گرے تو تمام دنیا کے ہلاک کرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ کوئی ستارہ عرض طول میں زمینؔ کے معمورہ سے کم نہیں ہے ایک ستارہ گر کر زمین کی تمام آبادی کو دبا سکتا ہے چہ جائیکہ تمام ستارے زمین پر گریں اور اُن کے گرنے سے ایک آدمی کو بھی آسیب نہ پہنچے بلکہ حضرت نوح کے زمانہ کی طرح مسیح کے اُترنے سے پہلے امن اور جمعیت سے آباد ہوں اور مسیح کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں۔
سو اے حق کے طالبو! یقینًا سمجھو کہ یہ سب استعارات ہیں حقیقت پر ہرگز محمول نہیں حضرت مسیح کا مطلب صرف اتنا ہے کہ وہ دین کے لئے ایک تاریکی کا زمانہ ہو گااور ایسی ضلالت کی تاریکی ہو گی کہ اُس وقت نہ آفتاب کی روشنی سے جو رسول مقبول اور اس کی شریعت اور اس کی کتاب ہے لوگ آنکھیں کھولیں گے کیونکہ اُن کے نفسانی حجابوں کی وجہ سے آفتاب شریعت ان کے لئے اندھیرا ہو جائے گا اور ماہتاب بھی انہیں روشنی نہیں دے گا یعنی اولیا کے وجود سے بھی انہیں کچھ فائدہ نہ ہوگا کیونکہ بے دینی کے بڑھ جانے سے مردانِ خدا کی محبتؔ بھی اُن کے دلوں میں نہیں رہے گی اور آسمان کے ستارے گریں گے یعنی حقّانی علماء فوت ہوجائیں گے اور آسمان کی قوتیں ہل جائیں گی یعنی آسمان اُوپر کی طرف کسی کو کھینچ نہیں سکے گا۔ دن بدن لوگ زمین کی طرف کھینچے چلے جائیں گے یعنی لوگوں پر نفس امّارہ کے جذبات غالب ہوں گے اُس وقت نہ لڑائیاں ہوں گی اور نہ عامہ خلائق کے امن اور عافیت میں خلل ہوگا بلکہ نوح کے زمانہ کی طرح ایک امن بخش گورنمنٹ