وہ علامات جو مسیح نے استعارہ کے طورپر اپنے آنے کے بیان کئے ہیں اور نیز سورۃ الزلزال کی تفسیر
مسیح نے اپنے دوبارہ آنے کا نشان یہ بتلایا ہے کہ اُن دنوں میں تُرت سورج اندھیرا ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہیں دے گا اور ستارے آسمان سے گر جائیں گے اور آسمان کی قوتیں ہل جائیں گی تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہو گا اور ابن آدم کوبڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آؔ تے دیکھیں گے اور وہ نرسنگے کے بڑے شور کے ساتھ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا اور وَے اُس کے برگزیدوں کو چاروں طرف سے آسمان کی اِس حد سے اُس حد تک جمع کریں گے جب تم یہ سب کچھ دیکھو تو جانو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے میں تمہیں سچ سچ کہتا ہو ں کہ جب تک یہ سب کچھ ہو نہ لے اِس زمانہ کے لوگ گذرنہ جائیں گے آسمان و زمین ٹل جائیں گے پر میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی لیکن اُس دن اور اُس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتوں تک کوئی نہیں جانتا جیسا نوح کے دنوں میں ہوا ویسا ہی ابن آدم کا آنا بھی ہو گا کیونکہ جس طرح اُن دنوں میں طوفان کے پہلے کھاتے پیتے بیاہ کرتے بیاہے جاتے تھے اس دن تک کہ نوح کشتی پر چڑھا اور نہ جانتے تھے جب تک کہ طوفان آیا اور اُن سب کو لے گیا اِسی طرح ابن آدم کا آنابھی ہو گا یعنی جس طرح کہ نوح کی کشتی بنانے سے پہلے لوگ امن اور آرام سے بستے تھے کوئی ارضی یا سماوی حادثہ اُن پر وارد نہ تھااسی طرح ابن آدم یعنی مسیح بھی لوگوں کے آؔ رام اور خوشحالی کے وقت میں آئے گا اُس کے آنے سے پہلے کسی قسم کا حادثہ لوگوں پر نازل نہیں ہو گا بلکہ معمولی طور پر امن اور راحت سے دنیا اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہو گی دیکھو متی باب ۲۴۔
حضرت مسیح کے اِس بیان میں بظاہر صورت جس قدر تناقض ہے ناظرین نے سمجھ لیا ہو گا کیونکہ اُنہوں نے اپنے اُترنے سے پہلے اس امر کو ضروری ٹھہرایا ہے کہ سورج اندھیرا ہو جائے اور