ازانجملہ ایک یہؔ اعتراض ہے کہ جو لوگ آسمانوں کے وجود کے قائل ہیں وہ البتہ اُن کی حرکت کے بھی قائل ہیں اور حرکت بھی دولابی خیال کرتے ہیں اب اگر فرض کیا جائے کہ حضرت مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر گئے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت اُوپر کی سمت میں ہی نہیں رہ سکتے بلکہ کبھی اُوپر کی طرف ہوں گے اور کبھی زمین کے نیچے آ جاؔ ئیں گے اس صورت میں اس بات پر وثوق بھی نہیں ہو سکتاہے کہ وہ ضرور اُوپر کی ہی طرف سے اُتریں گے کیا یہ ممکن نہیں کہ زمین کے نیچے سے ہی نکل آویں کیونکہ درحقیقت اُن کا ٹھکانہ تو کسی جگہ نہ ہوا اگر صبح آسمان کے اُوپر ہوئے تو شام کو زمین کے نیچے۔ پس ایسی مصیبت اُن کے لئے روا رکھنا کس درجہ کی بے ادبی میں داخل ہے۔ ازانجملہ ایک یہ اعتراض کہ اگر ہم فرض محال کے طور پرقبول کر لیں کہ حضرت مسیح اپنے جسم خاکی کے سمیت آسمان پر پہنچ گئے تو اس بات کے اقرار سے ہمیں چار ہ نہیں کہ وہ جسم جیساکہ تمام حیوانی و انسانی اجسام کے لئے ضروری ہے آسمان پر بھی تاثیر زمانہ سے ضرور متاثر ہو گا اور بمرور زمانہ لابدی اور لازمی طور پر ایک دن ضرور اس کے لئے موت واجب ہو گی پس اس صورت میں اول تو حضرت مسیح کی نسبت یہ ماننا پڑتا ہے کہ اپنی عمر کا دورہ پوراکر کے آسمان ہی پر فوت ہو گئے ہوں اور کواکب کی آبادی جو آج کل تسلیم کی جاتی ہے اُسی کے کسی قبرستان میں دفن کئےؔ گئے ہوں اور اگر پھر فرض کے طور پراب تک زندہ رہنا اُن کا تسلیم کر لیں تو کچھ شک نہیں کہ اتنی مدت گزرنے پر پِیر فَرتوت ہو گئے ہوں گے اور اس کام کے ہرگز لائق نہیں ہوں گے کہ کوئی خدمت دینی اداکر سکیں پھر ایسی حالت میں اُن کا دنیا میں تشریف لانا بجُز ناحق کی تکلیف کے اور کچھ فائدہ بخش معلوم نہیں ہوتا۔