اور وہ یہ ہے۔ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِىْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْؕ وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ
۱
اب جب کہ فوت ہوجانا ثابت ہوا تو اس سے ظاہر ہے کہ اُن کا جسم اُن سب لوگوں کی طرح جو مرجاتے ہیں زمین میں دفن کیا گیا ہوگا کیونکہ قرآن شریف بصراحت ناطق ہے کہ فقط اُن کی روح آسمان پر گئی نہ کہ جسم۔ تب ہی تو حضرت مسیح نے آیت موصوفہ بالا میں اپنی موت کا صاف اقرار کر دیا اگر وہ زندوں کی شکل پر خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف پرواز کرتے تو اپنے مرجانے کا ہرگز ذکر نہ کرتے اور ایسا ہرگز نہ کہتے کہ میں وفات پا کر اس جہان سے رخصت کیا گیا ہوں۔ ابؔ ظاہر ہے کہ جبکہ آسمان پر اُن کی روح ہی گئی تو پھر نازل ہونے کے وقت جسم کہاں سے ساتھ آجائے گا۔
ازانجملہ ایک یہ اعتراض ہے کہ نیا اور پُرانا فلسفہ بالاتفاق اس بات کو محال ثابت کرتا ہے کہ کوئی انسان اپنے اس خاکی جسم کے ساتھ کُرَّۂ زَمْہَرِیْر تک بھی پہنچ سکے بلکہ علم طبعی کی نئی تحقیقاتیں اس بات کو ثابت کر چکی ہیں کہ بعض بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر پہنچ کر اس طبقہ کی ہوا ایسی مُضرِّ صحت معلوم ہوئی ہے کہ جس میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔پس اس جسم کا کُرَّۂ ماہتاب یا کُرَّۂ آفتاب تک پہنچنا کس قدر لغو خیال ہے *
*حاشیہ اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج اس جسم کے ساتھ کیوں کر جائز ہوگا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھاجس کو درحقیقت بیداری کہنا چاہیئے۔ ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسبؔ استعداد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جوعرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے سو درحقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔ میں اس کانام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنیٰ درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفٰی اوراجلٰی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔ اس جگہ زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ انشاء اللہ کسی اَور محل میں مفصل طورپر بیان کیاجائے گا۔ منہ