امامکم منکم اور دوسری حدیث جو اس بات کا فیصلہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مسیح اوّل کا حُلیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اَور طرح کا فرمایا ہے اور مسیح ثانی کا حُلیہ اَور طور کا ذکر کیا ہے جو اس عاجزکے حُلیہ سے بالکل مطابق ہے۔اب سوچنا چاہیئے کہ ان دونوں حُلیوں میں تناقض صریح ہونا کیا اس بات پر پختہ دلیل نہیں ہے کہ درحقیقت مسیح اول اَور ہے اور مسیح ثانی اَور ۔ ایک اَور بات قابل توجہ یہ ہے کہ ہمارے علماء کی ضد تو اس بات پر ہے کہ ابن مریم کے اُترنے کے بارہ میں جو حدیث ہے اس کو حقیقت پر حمل کرنا چاہیئے لیکن ان کے بعض عقلمندوں سے جب اس حدیث کے معنے پوچھے جائیں کہ ابن مریم اُترے گا اور صلیب کو توڑؔ ے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا تو ابن مریم کے لفظ کو تو حقیقت پر ہی حمل رکھتے ہیں اور صلیب اور خنزیر کے بارہ میں کچھ دبی زبان سے ہماری طرح استعارہ اور مجاز سے کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔پس وہ لوگ اپنی اس کارروائی سے خود ملزم ٹھہرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اُن پر یہ حجت وارد ہوتی ہے کہ اِن تین لفظوں میں سے جو ابن مریم کااُترنا اور صلیب کا توڑنا اور خنزیروں کا قتل کرنا ہے دو لفظوں کی نسبت تو تم آپ ہی قائل ہو گئے کہ بطور استعارہ ان سے اور معنے مراد ہیں تو پھر یہ تیسرا کلمہ جو ابن مریم کا اُترنا ہے کیوں اس میں بھی بطور استعارہ کوئی اور شخص مراد نہیں ؟ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا ان خیالات مجموعہ تناقضات پر جمے رہنا طریق عقلمندی و فرزانگی ہے یا وہ معارف قریب بفہم و مطابق عقل ہیں جو اس عاجز پر کھولے گئے ہیں۔ ماسوا اس کے اَور کئی طریق سے اُن پرانے خیالات پر سخت سخت اعتراض عقل کے وارد ہوتے ہیں جن سےَ مخلصی حاصل کرؔ نے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ ازانجملہ ایک یہ ہے کہ قرآن شریف کے کسی مقام سے ثابت نہیں کہ حضرت مسیح اِسی خاکی جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اُٹھائے گئے بلکہ قرآن شریف کے کئی مقامات میں مسیح کے فوت ہوجانے کا صریح ذکر ہے اور ایک جگہ خود مسیح کی طرف سے فوت ہوجانے کا اقرار موجود ہے