موجود ہے اور بذریعہ معتبر خبروں کے ثابت ہوا ہے کہ صرف یہی ہزار دوکان نہیں بلکہ پچیس ہزار اَور خنزیر ہر روز لنڈن میں سے مفصلات کے لوگوں کے لئے باہر بھیجا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ کیا نبی اللہ کی یہی شان ہونی چاہیئے کہ وہ دنیا میں اصلاح خلق کے لئے تو آوے مگر پھر اپنی اوقات عزیز ایک مکروہ جانور خنزیر کے شکار میں ضائع کرے حالانکہ توریت کے رو سے خنزیر کو چھونا بھی سخت معصیت میں داخل ہے پھر میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اول تو شکار کھیلنا ہی کار بیکاراں ہے اور اگر حضرت مسیح کو شکار ہی کی طرف رغبت ہو گی اور دن رات یہی کا م پسند آئے گا تو پھر کیا یہ پاک جانور جیسے ہرن اور گورخر اور خرگوش دنیا ؔ میں کیا کچھ کم ہیں تا ایک ناپاک جانور کے خو ن سے ہاتھ آلودہ کریں۔
اب میں نے وہ تمام خاکہ جو میری قوم نے مسیح کے ان سوانح کا کھینچ رکھا ہے جو دوبارہ زمین پر اُترنے کے بعد اُن پر گزریں گے پیش کر دیا ہے عقلمند اس پر غور کریں کہ کہاں تک اس میں خلاف قانون قدرت باتیں ہیں۔کہاں تک اس میں اجتماع نقیضین موجود ہے۔کہاں تک یہ شان نبوت سے بعید ہے ؟لیکن اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ یہ تمام ذخیرہ رطب و یابس کا صحیحین میں نہیں ہے۔امام محمد اسمٰعیل بخاری رحمہ اللہ نے اس بارہ میں اشارہ تک بھی نہیں کیا کہ یہ مسیح آنے والا درحقیقت اور سچ مچ وہی پہلا مسیح ہو گا بلکہ انہوں نے دو حدیثیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طر ف سے ایسی لکھی ہیں جنھوں نے فیصلہ کر دیا ہے کہ مسیح اوّل اَور ہے اور مسیح ثانی اَور ہے کیونکہ ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ ابن مریم تم میں اُترے گا اور پھر بیان کے طور پر کھول دیا ہے کہ وہ ایک تمھار ا امام ہو گا جو تم میں سے ہی ہو گا۔پس ان لفظوں پر خوب غور کرنی چاہیئے جو آنحضر ت صلیؔ اللہ علیہ وسلم لفظ ابن مریم کی تصریح میں فرماتے ہیں کہ وہ ایک تمہاراامام ہو گا جو تم میں سے ہی ہو گا اور تم میں سے ہی پیداہو گا گویاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وہم کو دفع کرنے کے لئے جو ابن مریم کے لفظ سے دلوں میں گذر سکتا تھاما بعد کے لفظوں میں بطور تشریح فرما دیا کہ اُس کو سچ مچ ابن مریم ہی نہ سمجھ لو بل ھُو