اس کے ہاتھ سے قتل ہو گا یہودی بھی اس کے حکم سے مارے جائیں گے۔پھر ایک طرف تو یہ اقرار ہے کہ مسیح موعود وہی مسیح بن مریم نبی اللہ ہے جس پر انجیل نازل ہوئی تھی جس پر حضرت جبریل اُتراکرتا تھا جو خدائے تعالیٰ کے بزرگ پیغمبروں میں سے ایک پیغمبر ہے اور دوسری طرف یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ دوبارہ زمین پر آکر اپنی نبوّت کا نام بھی نہیں لے گا بلکہ منصب نبوت سے معزول ہو کر آئے گا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں داخل ہو کر عام مسلمانوں کی طرح شریعت قرآنی کا پابند ہوگا۔نماز اَوروں کے پیچھے پڑھے گا جیسے عام مسلمان پڑھا کرتے ہیں بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ حنفی ہو گا امام اعظم صاحبؔ کو اپنا امام سمجھے گا۔مگر اب تک اس بارہ میں تصریح سے بیان نہیں کیا گیا کہ چار سلسلوں میں سے کس سلسلہ میں داخل ہو گا آیاوہ قادری ہو گا یا چشتی یا سہروردی یا حضرت مجدّد سرہندی کی طرح نقشبندی۔غرض ان لوگوں نے عنوان میں نبوت کا خطاب جما کر جس درجہ پر پھر اُس کا تنزل کیا ہے کوئی قائم الحواس ایساکام کبھی نہیں کر سکتا پھر بعد اس کے اُس کے خاص کا م استعارات کو حقیقت پر حمل کر کے یہ بیان کئے گئے ہیں کہ وہ صلیب کو توڑے گاخنزیروں کو قتل کرے گا۔اب جائے تعجب ہے کہ صلیب کو توڑنے سے اس کا کونسا فائدہ ہے ؟اور اگر اس نے مثلًا دس بیس لاکھ صلیب توڑ بھی دی تو کیا عیسائی لوگ جن کو صلیب پرستی کی دُھن لگی ہوئی ہے اور صلیبیں بنوا نہیں سکتے۔اور دوسرا فقر ہ جو کہا گیا ہے کہ خنزیروں کو قتل کرے گا یہ بھی اگر حقیقت پر محمول ہے تو عجیب فقرہ ہے۔کیا حضرت مسیح کا زمین پر اُترنے کے بعد عمدہ کام یہی ہو گا کہ وہ خنزیروں کا شکار کھیلتے پھریں گے اور بہت سے کتے ساتھ ہوں گے اگر یہی سچ ہے تو پھر سکھوں اور چماروں اور سانسیوں اورؔ گنڈیلوں وغیرہ کو جو خنزیر کے شکار کو دوست رکھتے ہیں خوشخبری کی جگہ ہے کہ ان کی خوب بن آئے گی۔مگر شاید عیسائیوں کو اُن کی اس خنزیر کشی سے کچھ چنداں فائدہ نہ پہنچ سکے کیونکہ عیسائی قوم نے خنزیر کے شکار کو پہلے ہی کمال تک پہنچا رکھا ہے بالفعل خاص لنڈن میں خنزیر کا گوشت فروخت کرنے کے لئے ہزار دُوکان