اصلاح خلائق کے لئے دنیا میں آئے گاجو طبع اور قُوّت اور اپنے منصبی کام میں مسیح بن مریم کا ہمرنگ ہو گا اور جیساکہ مسیح بن مریم نے حضرت موسیٰ کے دین کی تجدید کی اور وہ حقیقت اور مغز توریت کا جس کو یہودی لوگ بھول گئے تھے اُن پر دوبارہ کھول دیا ایسا ہی وہ مسیح ثانی مثیل موسیٰ کے دین کی جو جناب ختم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تجدید کرے گااور یہ مثیل موسیٰ کا مسیح اپنی سوانح میں اور دوسرے تمام نتائج میں جو قوم پر ان کی اطاعت یا ان کی سرکشی کی حالت میں مؤثر ہوں گے اس مسیح سے بالکل مشابہ ہو گا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا اب جو امر کہ خدائے تعالیٰ نے میرے پر منکشفؔ کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ مسیح موعود میں ہی ہوں۔ مسلمانوں کا پُرانے خیالات کے موافق جو اُن کے دلوں میں جمے ہوئے چلے آتے ہیں یہ دعویٰ ہے کہ مسیح بن مریم سچ مچ دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ دھرے ہوئے آسمان سے اُترے گا اور منارہ مشرقی دمشق کے پاس آٹھہرے گا اور بعض کہتے ہیں کہ منارہ پر اُترے گا اور وہاں سے مسلمان لوگ زینہ کے ذریعہ سے اس کو نیچے اُتاریں گے اور فرشتے اُسی جگہ سے رخصت ہو جائیں گے اور عمدہ پوشاک پہنے ہوئے اُترے گا یہ نہیں کہ ننگا ہو۔اور پھر مہدی کے ساتھ ملاقات اور مزاج پُرسی ہو گی اور باوجود اس قدر مدت گزرنے کے وہی پہلی عمر بتیس ۳۲ یا تینتیس ۳۳ برس کی ہو گی اِس قدر گردش ماہ و سال نے اُس کے جسم و عمر پر کچھ اثر نہ کیا ہو گا اُس کے ناخن اور بال وغیرہ اس قدر سے نہ بڑھے ہوں گے جو آسمان پر اُٹھائے جانے کے وقت موجود تھے اور کسی قسم کا تغیر اس کے وجود میں نہ آیا ہوگا لیکن زمین پر اُتر کر پھر سلسلہ تغیرؔ ا ت کا شروع ہوگا وہ کسی قسم کا جنگ و جدل نہیں کرے گا بلکہ اس کے مُنہ کی ہوا میں ہی ایسی تاثیر ہو گی کہ جہاں تک اس کی نظر پہنچے گی کافر مرتے جائیں گے یعنی اُس کے دَم میں ہی یہ خاصیّت ہو گی کہ زندوں کومارے جیسی پہلے یہ خاصیت تھی کہ مُردوں کو زندہ کرے۔پھر ہمارے علماء اپنے اس پہلے قول کو فراموش کر کے یہ دوسرا قول جو اس کا نقیض ہے پیش کرتے ہیں کہ وہ جنگ اور جدل بھی کرے گا اور دجّال یک چشم