دوسری نکتہ چینی یہ ہے کہ مالیخولیا یا جنون ہو جانے کی وجہ سے مسیح موعودہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یُوں تو میں کسی کے مجنون کہنے یا دیوانہ نام رکھنے سے ناراض نہیں ہو سکتا بلکہ خوش ہوں۔کیونکہ ہمیشہ سے ناسمجھ لوگ ہر ایک نبی اور رسول کا بھی اُن کے زمانہ میں یہی نام رکھتے آئے ہیں اور قدیم سے ربّانی مصلحوں کو قوم کی طرف سے یہی خطاب ملتا رہا ہے اور نیز اس وجہ سے بھی مجھے خوشی پہنچی ہے کہ آج وہ پیشگوئی پور ی ہوئی جو براھین میں طبع ہو چکی ہے کہ تجھے مجنون بھی کہیں گے لیکن حیرت تو اس بات میں ہے کہ اس دعوےٰ میں کونؔ سے جنون کی علامت پائی جاتی ہے کون سی خلاف عقل بات ہے جس کی وجہ سے معترضین کو جنون ہوجانے کا شک پڑگیااس بات کا فیصلہ ہم معترضین کی ہی کانشنس اور عقل پر چھوڑتے ہیں اور اُن کے سامنے اپنے بیانات اور اپنے مخالفوں کی حکایات رکھ دیتے ہیں کہ ہم دونوں گروہ میں سے مجنون کون ہے اور عقل سلیم کس کی طرز تقریر کو مجانین کی باتوں کے مشابہ سمجھتی ہے اور کس کے بیانات کو قولِ موجَّہ قرار دیتی ہے۔ میرا بیان مسیح موعود کی نسبت جس کی آسمان سے اُترنے اور دوبار ہ دنیا میں آنے کی انتظار کی جاتی ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے میرے پر کھول دیا ہے یہ ہے کہ مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کا قرآن شریف میں تو کہیں ذکر نہیں قرآن شریف تو ہمیشہ کے لئے اُس کو دنیا سے رخصت کرتا ہے البتہ بعض حدیثوں میں جو استعارات سے پُر ہیں مسیح کے دوبارہ دنیا میں آنے کے لئے بطور پیشگوئی بیان کیا گیا ہے سو اؔ ن حدیثوں کے سیاق و سباق سے ظاہر ہے کہ اس جگہ در حقیقت مسیح ابن مریم کا ہی دوبارہ دنیا میں آجانا ہرگز مراد نہیں ہے بلکہ یہ ایک لطیف استعارہ ہے جس سے مراد یہ ہے کہ کسی ایسے زمانہ میں جو مسیح ابن مریم کے زمانہ کا ہمرنگ ہوگا ایک شخص