فرما گئے ہیں کہ مَیں بھی تہذیب حقیقی کے بارے میں ایک رسالہ تالیف کر کے شائع کروں گا کیونکہ مولوی صاحب موصوف اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ در اصل تہذیب حقیقی کی راہ وہی راہ ہے جس پر انبیاء علیہم السلام نے قدم مارا ہے جس میں سخت الفاظ کا داروئے تلخ کی طرح گاہ گاہ استعمال کرنا حرام کی طرح نہیں سمجھا گیا بلکہ ایسے درشت الفاظ کا اپنے محل پر بقدرِ ضرورت و مصلحت استعمال میں لانا ہریک مبلغ اور واعظ کا فرض وقت ہے جس کے ادا کرنے میں کسی واعظ کا سُستی اور کاہلی اختیار کرنا اس بات کی نشانی ہے کہ غیراللہ کا خوف جو شرک میں داخل ہےؔ اس کے دل پر غالب اور ایمانی حالت اس کی ایسی کمزور اور ضعیف ہے جیسے ایک کیڑے کی جان کمزور اور ضعیف ہوتی ہے سو میں اُس دوست کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خدائے تعالیٰ اس تالیف کے ارادہ میں روح القدس سے اُس کی مدد فرماوے۔میرے نزدیک بہتر ہے کہ وہ اپنے اس رسالہ کا نام تہذیب ہی رکھیں اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ میرے اس دوست کو یہ جوش ایک مولوی صاحب کے اعتراض سے پیدا ہوا ہے جو قادیاں کی طرف آتے وقت اتفاقاََ لاہور میں مل گئے تھے جنہوں نے اس عاجز کی نسبت اسی بار ہ میں اعترا ض کیا تھااے خداوند قادر مطلق اگرچہ قدیم سے تیری یہی عادت اور یہی سنت ہے کہ تو بچوں اور اُمیوں کو سمجھ عطا کرتا ہے اور اس دنیا کے حکیموں اور فلاسفروں کی آنکھوں اور دلوں پر سخت پردے تاریکی کے ڈال دیتاہے مگر میں تیری جناب میں عجز اور تضرع سے عر ض کرتا ہوں کہ ان لوگوں میں سے بھی ایک جماعت ہماری طرف کھینچ لا جیسے تُو نے بعض کو کھینچا بھی ہے اور ان کو بھی آنکھیں بخش ؔ اور کان عطا کر اور دل عنایت فرما تا وہ دیکھیں اور سُنیں اور سمجھیں اور تیری اس نعمت کا جو تُو نے اپنے وقت پر نازل کی ہے قدر پہچان کر اس کے حاصل کرنے کے لئے متوجہ ہو جائیں۔اگر تُو چاہے تو تُو ایسا کر سکتاہے کیونکہ کوئی بات تیرے آگے اَن ہونی نہیں۔آمین ثم آمین۔