دشمن نہیں ہیں وہ تو ہمارے شکار ہیں عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ تم نظر اُٹھا کر دیکھو گے کہ کوئی ہندو دکھائی دے مگر ان پڑھوں لکھوں میں سے ایک ہندو بھی تمہیں دکھائی نہیں دے گا سو تم اُن کے جوشوں سے گھبرا کر نومید مت ہو کیونکہ وہ اندر ہی اندر اسلام کے قبول کرنے کے لئے تیاری کررہے ہیں اور اسلام کی ڈیوڑھی کے قریب آپہنچے ہیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ جو لوگ مخالفانہ جوش سے بھرے ہوئے آج تمہیں نظر آتے ہیں تھوڑے ہی زمانے کے بعد تم انہیں نہیں دیکھو گے۔حال میں جو آریوں نے ہم لوگوں کی تحریکؔ سے مناظرات کی طرف قدم اُٹھایا ہے تو اس قدم اُٹھانے میں گو کیسی ہی سختی کے ساتھ اُن کا برتاؤ ہے اور گو گالیوں اور گندی باتوں سے بھری ہوئی کتابیں وہ شائع کر رہے ہیں مگر وہ اپنے جوش سے درحقیقت اسلام کے لئے اپنی قوم کی طرف راہ کھول رہے ہیں اور ہماری تحریکات کا واقعی طور پر کوئی بدنتیجہ نہیں ہاں یہ تحریکات کوتہ نظروں کی نگاہ میں بد نما ہیں مگر کسی دن دیکھنا کہ یہ تحریکات کیوں کر بڑے بڑے سنگین دلو ں کو اس طرف کھینچ لاتی ہیں۔یہ رائے کوئی ظنی اور شکی رائے نہیں بلکہ ایک یقینی اور قطعی امر ہے لیکن افسوس اُن لوگو ں پر جو خیر اور شر میں فرق نہیں کر سکتے اور شتا ب کاری کی راہ سے اعتراض کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں خدائے تعالیٰ نے ہمیں مداہنہ سے تو صاف منع فرمایا ہے لیکن حق کے اظہار سے باندیشہ اس کی مرارت اور تلخی کے باز آجانا کہیں حکم نہیں فرمایا۔فتدبروا ایّھا العلماء المستعجلون الا تقرؤن القراٰن مالکم کیف تحکمون۔ میرؔ ے ایک مخلص دوست مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی جو نو تعلیم یافتہ جوان اور تربیت جدیدہ کے رنگ سے رنگین اور نازک خیال آدمی ہیں جن کے دل پر میرے محب صادق اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب کی مربیانہ اور اُستادانہ صحبت کا نہایت عمدہ بلکہ خارق عادت اثر پڑا ہوا ہے وہ بھی جو اَب قادیاں میں میرے ملنے کے لئے آئے وعدہ