اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔اُن کے رُوبرو سچائی کو اُس کی پوری مرارت اور تلخی کے ساتھ ظاہر کرنا اس نتیجہ خیر کا منتج ہوتاہے کہ اُسی وقت اُن کا مداہنہ دور ہوجاتاہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور علانیہ اپنے کفر اور کینہ کو بیان کرنا شروع کردیتے ہیں گویا اُن کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کرجاتی ہے۔سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیداکردیتی ہے اگرچہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک رُوبحق کرنے کے لئے پہلا زینہ ہے۔جب تک ایک مرض کے مواد مخفی ہیں تب تک اسؔ مرض کا کچھ علاج نہیں ہو سکتالیکن مواد کے ظہور اور بروز کے وقت ہریک طور کی تدبیر ہو سکتی ہے۔انبیا نے جو سخت الفاظ استعمال کئے حقیقت میں ان کا مطلب تحریک ہی تھا تا خلق اللہ میں ایک جوش پیدا ہو جائے اور خواب غفلت سے اس ٹھوکر کے ساتھ بیدار ہوجائیں اور دین کی طرف خوض اور فکر کی نگاہیں دوڑانا شروع کردیں اور اس راہ میں حرکت کریں گو وہ مخالفانہ حرکت ہی سہی اور اپنے دلوں کا اہل حق کے دلوں کے ساتھ ایک تعلق پیداکرلیں گو وہ عدوانہ تعلق ہی کیوں نہ ہو اسی کی طرف اللہ جلّشَانُہٗ اشارہ فرماتاہے فِىْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا ۱؂ یقیناسمجھنا چاہیئے کہ دین اسلام کو سچے دل سے ایک دن وہی لوگ قبول کریں گے جو بباعث سخت اور پُرزور جگانے والی تحریکوں کے کتب دینیہ کی ورق گردانی میں لگ گئے ہیں اور جوش کے ساتھ اس راہ کی طرف قدم اُٹھارہے ہیں گو وہ قدم مخالفانہ ہی سہی۔ہندوؤں کا وہ پہلا طریق ہمیں بہت مایوس کرنے والا تھاجو اپنے دلوں میں وہؔ لوگ اس طرز کو زیادہ پسند کے لائق سمجھتے تھے کہ مسلمانوں سے کوئی مذہبی بات چیت نہیں کرنی چاہیئے اور ہاں میں ہاں ملا کر گذارہ کر لینا چاہیئے لیکن اب وہ مقابلہ پرآکر اور میدان میں کھڑے ہو کرہمارے تیز ہتھیاروں کے نیچے آپڑے ہیں اور اس صید قریب کی طرح ہو گئے جس کا ایک ہی ضرب سے کام تمام ہو سکتاہے اُن کی آہوانہ سرکشی سے ڈرنا نہیں چاہیئے ۱؂ البقرۃ:۱۱