انسان کا فرض ہے کہ سچائی کے طریقوں کو ہاتھ سے نہ دیوے بلکہ اگر ایک ادنیٰ سے ادنیٰ انسان کی زبان پر کلمہ حق جاری ہو اور اپنے آپ سے غلطی ہو جائے تو اپنی غلطی کا اقرار کر کے شکر گذاری کے ساتھ اس حقیر آدمی کی بات کو مان لیوے اور اَنَا خَیْرٌ مِنْہُ کا دعویٰ نہ کرے ورنہ تکبر کی حالتؔ میں کبھی رشد حاصل نہیں ہوگا بلکہ ایسے آدمی کا ایما ن بھی معرض خطر میں ہی نظر آتاہے۔
اور سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خُفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لئے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں ایک تحریک ہو جاتی ہے مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر اُن میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے چھیڑانہ جائے تو وہ مداہنہ کے طورؔ پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف وتوصیف اور اس دین کے اولیاء کی مدح و ثنا کرنے لگتے ہیں لیکن دل اُن کے نہایت درجہ کے سیاہ
راہوں سے روکنے والا زنا کار اور بایں ہمہ نہایت درجہ کا بدخلق اور ان سب عیبوں کے بعد ولدالزنا بھی ہے۔ عنقریب ہم اس کے اس ناک پر جو سُؤر کی طرح بہت لمبا ہوگیا ہے داغ لگادیں گے یعنی ناک سے مراد رسوم اور ننگ وناموس کی پابندی ہے جو حق کے قبول کرنے سے روکتی ہے(اے خدائے قادر مطلق ہماری قوم کے بعض لمبی ناک والوں کی ناک پر بھی اُسترہ رکھ) اب کیوں حضرت مولوی صاحب کیا آپ کے نزدیک ان جامع لفظوں سے کوئی گالی باہر رہ گئی ہے۔ اور اس جگہ ایک نہایت عمدہؔ لطیفہ یہ ہے کہ ولید (بن) مغیر ہ نے نرمی اختیار کر کے چاہا کہ ہم سے نرمی کابرتاؤ کیاجائے۔ اس کے جواب میں اس کے تمام پردے کھولے گئے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومنین سے مداہنہ کی امید مت رکھو۔ منہ