جو ایمانی غیّوری سے بہت دُور پڑی ہوئی ہے ہمارے علماء کے دلوں کو بھی کسی قدر دبا لیا ہے۔اس سخت آندھی کے چلنے کی وجہ سے ان کی آنکھوں میں بھی کچھ غبارساپڑگیاہے اور ان کی فطرتی کمزوری اس نزلہ کو قبول کر گئی ہے۔اسی وجہ سے وہ ایسے خیالات پر زور دیتے ہیں جن کا کوئی اصل صحیح حدیث و قرآن میں نہیں پایا جاتا ہاں یورپ کی اخلاقی کتابوں میں تو ضرور پایا جاتا ہے اور اؔ ن اخلاق میں یورپ نے یہاں تک ترقی کی ہے کہ ایک جوان عورت سے ایک نامحرم طالب کی بکلّی دل شکنی مناسب نہیں سمجھی گئی۔مگر کیا قرآن شریف یورپ کے ان اخلاق سے اتفاق رائے کرتا ہے؟ کیا وہ ایسے لوگوں کا نام دیّوث نہیں رکھتا؟ میں ایسے علماء کو محض للہ متنبہ کرتا ہوں کہ وہ ایسی نکتہ چینیاں کرنے اور ایسے خیالات کو دل میں جگہ دینے سے حق اور حق بینی سے بہت دور جاپڑے ہیں اگر وہ مجھ سے لڑنے کو تیار ہوں تو اپنی خشکؔ منطق سے جو چاہیں کہیں لیکن اگر وہ خدائے تعالیٰ سے خوف کر کے کسی قدرسوچیں تو یہ ایسی بات نہیں ہے جو ان کی نظر سے پوشیدہ رہ سکے نیک بخت تہذیب کے برخلاف ہے لیکن خدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں بعض کا نام ابو لہب اوربعض کانام کلب اور خنزیر کہا اور ابو جہل تو خود مشہور ہے ایسا ہی ولید (بن) مغیرہ کی نسبت نہایت درجہ کے سخت الفاظ جو بصورت ظاہر گندی گالیاں معلوم ہوتی ہیں استعمال کئے ہیں جیساکہ فرماتا ہے فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِيْنَ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِيْنٍۙ‏ هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۢ بِنَمِيْمٍۙ مَّنَّاعٍ لِّلْخَيْرِ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ عُتُلٍّ ۢ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِيْمٍۙ‏ سَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُـرْطُوْمِ ۔۱؂ دیکھوؔ سورہ القلم الجزو نمبر ۲۹۔ یعنی تُو ان مکذّبوں کے کہنے پر مت چل جو بدل اس بات کے آرزو مند ہیں کہ ہمارے معبودوں کو بُرامت کہو اور ہمارے مذہب کی ہجو مت کرو تو پھر ہم بھی تمہارے مذہب کی نسبت ہاں میں ہاں ملاتے رہیں گے اور ان کی چرب زبانی کا خیال مت کر ویہ شخص جو مداہنہ کا خواستگار ہے جھوٹی قسمیں کھانے والااورضعیف الرائے اور ذلیل آدمی ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے والا اورسخن چینی سے لوگوں میں تفرقہ ڈالنے والاؔ اورنیکی کی ۱؂ القلم: ۹ تا ۱۷