جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیاتھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جو اُن نادانوں نے دشنام دہی کی صورت پرسمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخر لسان سے سنان تک نوبت پہنچی ورنہ اول حال تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاؔ د سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلیٰ رَبِّہٖ ۔ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گئے ہیں جیسے آج کل کے ہندو لوگ بھی کسی گوشہ نشین فقیر کو ہرگز بُرا نہیں کہتے بلکہ نذریں نیازیں دیتے ہیں۔
اس جگہ مجھے نہایت افسوس اور غمگین دل کے ساتھ اس بات کے ظاہر کرنے کی بھی حاجت پڑی ہے کہ یہ اعتراض جو مجھ پر گیا ہے یہ صرف عوام الناس کی طرف سے ہی نہیں بلکہ میں نے سنا ہے کہ بانی مبانی اس اعتراض کے بعض علماء بھی ہیں۔سو میں ان کی شان میں یہ تو ظن نہیں کر سکتاکہ وہ قرآن شریف اور کتب سابقہ سے بے خبر ہیں اور نہ کسی طور سے جائے ظن ہے * لیکن ؔ میں جانتاہوں کہ آج کل کی یورپ کی جھوٹی تہذیب نے
قرآؔ ن شریف جس آوازبلند سے سخت زبانی کے طریق کواستعمال کر رہا ہے ایک غایت درجہ کا غبی اور سخت درجہ کا نادان بھی اُس سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ مثلًا زمانہ حال کے مہذبین کے نزدیک کسی پر *** بھیجنا ایک سخت گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف کفارؔ کو سُنا سُنا کر ان پر *** بھیجتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے
اُولٰٓٮِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓٮِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَۙ
۱ الجزو ۲ سورۃ بقرہ۔ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۚ
اُولٰٓٮِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ ۲۔ الجزو نمبر ۲
ایسا ہی ظاہر ہے کہ کسی انسان کو حیوان کہنا بھی ایک قسم کی گالی ہے۔ لیکن قرآن شریف نہ صرف حیوان بلکہ کفار اور منکرین کو دنیا کے تمام حیوانات سے بد تر قرار دیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے
اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْ ۳۔ ایسا ہی ظاہرہے کہ کسی خاص آدمی کانام لے کر یا اؔ شارہ کے طورپر اس کو نشانہ بنا کر گالی دینا زمانہ حال کی