سمجھنے کی مس تک نہیں۔نہیں خیال کرتا کہ اگر یہ آیت ہریک طور کی سخت زبانی سے متعلق سمجھی جائے تو پھر امر معروف اور نہی منکر کا دروازہ بند ہو جانا چاہیئے اور نیز اس صورت میں خدائے تعالیٰ کا کلام دومتناقض امروں کا جامع ماننا پڑے گا یعنی یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اوّل تو اُس نے ہریک طور کی سخت کلامی سے منع فرمایا اور ہریک محل میں کفار کا دل خوش رکھنے (کے) لئے تاکید کی اور پھر آپؔ ہی اپنے قول کے مخالف کارروائی شروع کرد ی اور ہریک قسم کی گالیاں منکروں کو سنائیں بلکہ گالیاں دینے کے لئے تاکیدکی۔ سوجاننا چاہیئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے کہ گویا عام طور پر ہریک سخت کلامی سے خدائے تعالیٰ منع فرماتاہے۔یہ اُن کی اپنی سمجھ کا ہی قصور ہے ورنہ وہ تلخ الفاظ جو اظہارحق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہریک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجبات وقت سے ہے تامداہنہ کی بلا میں مبتلانہ ہو جائیں۔خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ایسی سخت تبلیغ کے وقت میں کسی لاعن کی *** اور کسی لائم کی ملامت سے ہرگز نہیں ڈرے کیا معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں
عمر شباب پہنچنے کے وقت کسی چچا کو خیال تک نہیں آیا کہ آخر ہم بھی تو باپ ہی کی طرح ہیں شادی وغیرہ امور ضروریہ کے لئے کچھ فکر کریں حالانکہ اُن کے گھر میں اوراُن کے دوسرؔ ے اقارب میں بھی لڑکیاں تھیں۔ سو اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر سرد مہری اُن لوگوں سے کیوں ظہور میں آئی اس کا واقعی جواب یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ایک لڑکا یتیم ہے جس کا باپ نہ ماں ہے بے سامان ہے جس کے پاس کسی قسم کی جمعیت نہیں نادار ہے جس کے ہاتھ پلّے کچھ بھی نہیں ایسے مصیبت زدہ کی ہمدردی سے فائدہ ہی کیا ہے اور اُس کو اپنا داماد بنانا تو گویا اپنی لڑکی کو تباہی میں ڈالنا ہے مگر اس بات کی خبر نہیں تھی کہ وہ ایک شہزادہ اورروحانی بادشاہوں کا سردار ہے جس کو دنیا کے تمام خزانوں کی کُنجیاں دی جائیں گی۔ منہ