وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم ان کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور درحقیقت سب و شتم میں داخل ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے بڑے دھوکہ کی با ت یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے بلکہ ایسی ہریک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے اور اگر ہریک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کے مرارت اور تلخی اور ایذارسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن ؔ شریف گالیوں سے پُر ہے کیونکہ جو کچھ بتوں کی ذلت اور ُ بت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں *** ملامت کے سخت الفاظ قرآن شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہو گی۔کیا خدائے تعالیٰ کا کفار مکہ کو مخاطب کرکے یہ فرمانا کہ
اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَـنَّمَ ۱ معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شَرُّالْبَرِیَّۃ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بد تر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے روسے دشنام دہی میں داخل نہیں ہوگا؟کیاخدائے تعالیٰ نے قرآن شریف میں وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ْ ۲ نہیں فرمایا کیا مومنوں کی علامات میں
اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ ۳ نہیں رکھا گیا کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سؤر اور کتے کے نام سے پکارنا اور گلیل کے عالی مرتبہ فرمانروا ہیرودیس کا لونبڑی نام ؔ رکھنا اور معزز سردار کاہنوں اور فقیہوں کو
۱ الانبیاء: ۹۹ ۲ التوبۃ:۷۳ ۳ الفتح:۳۰