کنجری کے ساتھ مثال دینا اور یہودیوں کے بزرگ مقتداؤں کو جو قیصری گورنمنٹ میں اعلیٰ درجہ کے عزت دار اور قیصری درباروں میں کُرسی نشین تھے ان کریہہ اور نہایت دل آزار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرام زادے ہو حرام کار ہو شریرہو بدذات ہوبے ایمان ہو احمق ہو ریاکار ہو شیطان ہو جہنمی ہو تم سانپ ہو سانپوں کے بچے ہو۔کیا یہ سب الفاظ معترض کی رائے کے موافق فاش اور گندی گالیاں نہیں ہیں اِس سے ظاہر ہے کہ معترض کا اعتراض نہ صرف مجھ پر اور میری کتابوں پر بلکہ درحقیقت معترض نے خدائے تعالیٰ کی ساری کتابوں اور سارے رسولوں پر نہایت درجہ کے جلے سڑے دل کے ساتھ حملہ کیا ہے اور یہ حملہ انجیل پر سب سے زیادہ ہے کیونکہ حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے ثابت ہے کہ اس سخت کلامی کی وجہ سے کئی مرتبہ یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے اورسردارؔ کاہن کی بے ادبی سے حضرت مسیح نے اپنے منہ پر طمانچے بھی کھائے اور جیسا کہ حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میں صلح کرانے نہیں آیا بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں سو انہوں نے زبان کی تلوار ایسی چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں جیسے انجیل میں ہیں اس زبان کی تلوار چلنے سے آخر مسیح کو کیا کچھ آزار اٹھانے پڑے ایساہی حضرت یحییٰ نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کوسانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مقدس لوگ پرلے درجہ کے غیر مہذب تھے کیا زمانہ حال کی موجودہ تہذیب کی ان کو بُو بھی نہیں پہنچی تھی؟ اِس سوال کا جواب ہمارے سیّدو مولیٰ مادر و پدرم براو فداباد حضرت ختم المرسلین سیّد الاولین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شرّالبریّہ ہیں سفہاء ہیں اور ذرّیت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقود النّار اور حصب جہنم ہیں تو ابوطالب نے آنحضرؔ ت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری