ہم اور ہمارے نکتہ چین بعضے صاحبوں نے نکتہ چینی کے طور پر اس عاجز کی عیب شماری کیؔ ہے اور اگرچہ انسان عیب سے خالی نہیں اور حضرت مسیح کا یہ کہنا سچ ہے کہ میں نیک نہیں ہوں نیک ایک ہی ہے یعنی خدا۔ لیکن چونکہ ایسی نکتہ چینیاں دینی کارروائیوں پر بداثر ڈالتی ہیں اور حق کے طالبوں کو رجوع لانے سے روکتی ہیں اس لئے برعایت اختصار بعض نکتہ چینیوں کا جواب دیا جاتا ہے۔ پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے مشتعل ہو کر مخالفین نے اللہ جلَّشَانُہٗ اور اس کے رسول کریم کی بے ادبی کی اور پُر دشنام تالیفات شائع کر دیں۔ قرآن شریف میں صریح حکم وارد ہے کہ مخالفین کے معبودوں کو سب اور شتم سے یاد مت کرو تاوہ بھی بے سمجھی اور کینہ سے خدائے تعالیٰ کی نسبت سبّ و شتم کے ساتھ زبان نہ کھولیں۔لیکن اس جگہ برخلاف طریق ماموریہ کے سب و شتم سے کام لیا گیا۔ اماالجواب پس واضح ہو کہ اس نکتہ چینی میں معترض صاحبؔ نے انہیں مخاطب کر کے یہ الفاظ استعمال کئے کہ اس زمانہ کے بد اور حرامکار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں الخ اور پھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ وہ اُن معزز بزرگوں کو ہمیشہ دشنام دہی کے طورپر یاد کرتے رہے۔ کبھی اُنہیں کہااےؔ سانپو اے سانپ کے بچّو۔ دیکھومتی باب ۲۳ آیت ۳۳ کبھی اُنہیں کہا اندھے۔ دیکھو متی باب ۱۵ آیت ۱۴ کبھی اُنہیں کہا اے ریاکارو۔ دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۱۳ کبھی انہیں نہایت فحش کلمات سے یہ کہا کہ کنجریاں تم سے پہلے خدائے تعالیٰ کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں اور کبھی اُن کا نام سُؤر اور کُتّا رکھا۔ دیکھو متی باب ۲۱ آیت۳۱۔ اور کبھی اُنہیں احمق کہا دیکھو متی باب ۲۳ آیت ۱۷ کبھی اُنہیں کہا کہ تم جہنّمی ہو دیکھو متی باب ۲۲ آیت ۱۶۔ حالانکہ آپ ہی حلم اور خُلق کی نصیحت دیتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی اپنے بھائی کو احمق کہے جہنّم کی آگ کا سزا وار ہوگا اس اعتراض کا جواب اُن مطاعن کے جواب میں دیا جائے گا جو تہذیب کے بارے میں بعض خوش فہم آدمیوں نے اس عاجز کی نسبت کئے ہیں۔ منہ