بہت درخواست کی لیکن اس نے کچھ جواب نہ دیا تب ہیرودیس اپنے تمام مصاحبوں کے سمیت اس سے بے اعتقاد ہو گیا اور اسے ناچیز ٹھہرایا۔دیکھو لوقا باب ۲۲۔
اب خیال کرنا چاہیئے کہ اگر حضرت مسیح میں اقتداری طور پر جیسا کہ عیسائیوں کا خیال ہے معجزہ نمائی کی قوت ہوتی تو ضرور حضرت مسیح ہیرودیس کو جو ایک خوش اعتقاد آدمی اور ان کے وطن کا بادشاہ تھا کوئی معجزہ دکھاتے مگر وہ کچھ بھی دکھا نہ سکے۔ بلکہ ایک مرتبہ فقیہوں اور فریسیوں نے جن کی قیصر کی گورنمنٹ میں بڑی عزت تھی حضرت مسیح سے معجزہ مانگا تو حضرت مسیح نے انہیں مخاطب کر کے پُر اشتعال اور پُر غضب الفاظ سے فرمایا کہ اس زمانہ کے بد اور حرام کار لوگ نشان ڈھونڈتے ہیں * پرؔ یونس نبی کے نشان کے سوائے کوئی نشان انھیں دکھایانہیں جائیگا۔ دیکھو متی باب ۱۲آیت ۳۹۔اور حضرت مسیح نے یونس نبی کے نشان کی طرف جو اشارہ فرمایا تو اس سے حضرت مسیح کا یہ مطلب تھا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں ہلاک نہیں ہوا بلکہ زندہ رہا اؔ ور زندہ نکل آیا ایساہی میں بھی صلیب پر نہیں مروں گا اور نہ قبر میں مردہ داخل ہوں گا۔
اسؔ جگہ حضرت مسیح کی تہذیب او راخلاقی حالت پر ایک سخت اعتراض وارد ہوتا ہے۔ کیونکہ متی باب ۲۳آیت۲ میں وہ فرماتے ہیں کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدّی پر بیٹھے ہوئے ہیں یعنے بڑے بزرگ ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ لوگ یہودیوں کے مقتداءؔ کہلاتے تھے او رقیصر کے دربار میں بڑی عزت کے ساتھ خاص رئیسوں میں بٹھائے جاتے تھے۔ پھر باوجود ان سب باتوں کے انہیں فقیہوں اور فریسیوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح نے نہایت غیر مہذب الفاظ استعمال کئے بلکہ تعجب تو یہ ہے کہ ان یہودیوں کے معزز بزرگوں نے نہایت نرم اور مؤدبانہ الفاظ سے سراسر انکساری کے طور پر حضرت مسیح کی خدمت میں یوں عرض کی کہ اے اُستاد ہم تم سے ایک نشان دیکھا چاہتے ہیں۔اس کے جواب میں حضرت مسیح نے