نہیں آتا بلکہ مسیح کے معجزات اورپیشگوئیوں پرجس قدر اعتراض اور شکوک پیداہوتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ کسی اور نبی کے خوارق یا پیشؔ خبریوں میں کبھی ایسے شبہات پیدا ہوئے ہوں کیا تالاب کا قصہ مسیحی معجزات کی رونق دور نہیں کرتا؟اور پیشگوئیوں کا حال اس سے بھی زیادہ تر ابتر ہے کیا یہ بھی کچھ پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے اور اس سے زیادہ تر قابل افسوس یہ امر ہے کہ جس قدر حضرت مسیح کی پیشگوئیاں غلط نکلیں اِس قدر صحیح نکل نہیں سکیں۔اُنہوں نے یہودااسکریوطی کو بہشت کے بار ۱۲ہ تختوں میں سے ایک تخت دیا تھا جس سے آخر وہ محروم رہ گیا اور پطرس کو نہ صرف تخت بلکہ آسمان کی کُنجیاں بھی دیدی تھیں اور بہشت کے دروازے کسی پر بند ہونے یا کھلنے اُسی کے اختیار میں رکھے تھے مگر پطرس جس آخری کلمہ کے ساتھ حضرت مسیح سے الوداع ہوا وہ یہ تھا کہ اس نے مسیح کے روبرو مسیح پر *** بھیج کر اور قسم کھا کر کہا کہ میں اس شخص کو نہیں جانتا۔ایسی ہی اور بھی بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو صحیح نہیں نکلیں مگر یہ بات الزام کے لائق نہیں کیونکہ امور اخباریہ کشفیہ میں اجتہادی غلطیؔ انبیاء سے بھی ہو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ کی بعض پیشگوئیاں بھی اُس صورت پر ظہور پذیر نہیں ہوئیں جس صورت پر حضرت موسیٰ نے اپنے دل میں امید باندھ لی تھی غایت مافی الباب یہ ہے کہ حضرت مسیح کی پیشگوئیاں اَوروں سے زیادہ غلط نکلیں مگریہ غلطی نفس الہام میں نہیں بلکہ سمجھ اور اجتہاد کی غلطی ہے چونکہ انسان تھے اور انسان کی رائے خطا اور صواب دونوں کی طرف جاسکتی ہے اس لئے اجتہادی طور پر یہ لغزشیں پیش آگئیں۔
اِس مقام میں زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ حضرت مسیح معجزہ نمائی سے صاف انکار کر کے کہتے ہیں کہ میں ہرگز کوئی معجزہ دکھا نہیں سکتا مگر پھر بھی عوام الناس ایک انبار معجزات کا ان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ نہیں دیکھتے کہ وہ تو کھلے کھلے انکار کئے جاتے ہیں چنانچہ ھیرودیس کے سامنے حضرت مسیح جب پیش کئے گئے تو ہیرودیس مسیح کو دیکھ کر بہت خوش ہوا کیونکہ اسے اس کی کوئی کرامت دیکھنے کی اُمید تھی پر ہیرودیس نےؔ ہر چند اِس بارہ میں مسیح سے