باشفقت ہاتھ نے جلدی سے تمہیں اٹھا لیا سو شکر کرو اور خوشی سے اُچھلو جو آج تمہاری تازگی کا دن آگیا۔خدائے تعالیٰ اپنے دین کے باغ کو جس کی راستبازوں کے خونوں سے آبپاشی ہوئی تھی کبھی ضائع کرنا نہیں چاہتا وہ ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ غیر قوموں کے مذاؔ ہب کی طرح اسلام بھی ایک پرانے قصوں کا ذخیرہ ہو جس میں موجودہ برکت کچھ بھی نہ ہو وہ ظلمت کے کامل غلبہ کے وقت اپنی طرف سے نور پہنچاتا ہے کیا اندھیری رات کے بعد نئے چاند کے چڑھنے کے انتظار نہیں ہوتے کیا تم سلخ کی رات کو جو ظلمت کی آخری رات ہے دیکھ کر حکم نہیں کرتے کہ کَل نیا چاند نکلنے والا ہے۔ افسوس کہ تم اس دنیا کے ظاہری قانون قدرت کو تو خوب سمجھتے ہو مگر اس روحانی قانون فطرت سے جو اُسی کا ہم شکل ہے بکلّی بے خبرہو۔ اے نفسانی مولویو! اور خشک زاہدو! تم پر افسوس کہ تم آسمانی دروازوں کا کھلنا چاہتے ہی نہیں بلکہ چاہتے ہو کہ ہمیشہ بند ہی رہیں اور تم پیر مغاں بنے رہو اپنے دلوں پرنظر ڈالواور اپنے اندر کو ٹٹولو کیا تمہاری زندگی دنیا پرستی سے منزّہ ہے کیا تمہارے دلوں پر وہ زنگار نہیں جس کی وجہ سے تم ایک تاریکی میں پڑے ہو کیا تم اُن فقیہوں اور فریسیوں سے کچھ کم ہو جو حضرت مسیح کے وقت میں دن رات نفس پرستی میں لگے ہوئے تھےؔ پھر کیا یہ سچ نہیں کہ تم مثیل مسیح کے لئے مسیحی مشابہت کا ایک گونہ سامان اپنے ہاتھ سے ہی پیش کر رہے ہوتا خدائے تعالیٰ کی حجت ہر یک طور سے تم پر وارد ہو میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ایک کافر کا مومن ہو جانا تمہارے ایمان لانے سے زیادہ تر آسان ہے بہت سے لوگ مشرق اور مغرب سے آئیں گے اور اس خوانِ نعمت سے حِصّہ لیں گے لیکن تم اسی زنگ کی حالت میں ہی مرو گے کاش تم نے کچھ سوچاہوتا۔ اور مشابہت کے لئے مسیح کی پہلی زندگی کے معجزات جو طلب کئے جاتے ہیں اس بارے میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ احیاء جسمانی کچھ چیز نہیں احیاء روحانی کے لئے یہ عاجز آیاہے اور اُس کا ظہور ہو گا ماسوائے اس کے اگر مسیح کے اصلی کاموں کواُن حواشی سے الگ کر کے دیکھا جائے جو محض افترا کے طور پر یا غلط فہمی کی وجہ سے گھڑے گئے ہیں تو کوئی اعجوبہ نظر