توثابت ہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ مسیح کے ہاتھ سے زندہ ہونے والے مر گئے مگر جو شخص میرے ہاتھ سے جام پیئے گا جو مجھے دیا گیا ہے وہ ہرگز نہیں مرے گا۔وہ زندگی بخش باتیں جومیں کہتا ہوں اور وہ حکمت جو میرے منہ سے نکلتیؔ ہے اگر کوئی اور بھی اس کی مانند کہہ سکتا ہے تو سمجھو کہ میں خدائے تعالیٰ کی طرف سے نہیں آیا لیکن اگر یہ حکمت اور معرفت جو مُردہ دلوں کے لئے آب حیات کا حکم رکھتی ہے دوسری جگہ سے نہیں مل سکتی توتمہارے پاس اس جُرم کا کوئی عذر نہیں کہ تم نے اُس کے سرچشمہ سے انکار کیا جو آسمان پر کھولا گیا زمین پر اس کو کوئی بند نہیں کر سکتا سو تم مقابلہ کے لئے جلدی نہ کرو اور دیدہ و دانستہ اس الزام کے نیچے اپنے تئیں داخل نہ کرو جو خدائے تعالیٰ فرماتاہے
۱ وَلَا تَقْفُ مَا لَـيْسَ لَـكَ بِهٖ عِلْمٌؕ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۤٮِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـُٔوْلاً
بدظنی اور بدگمانی میں حد سے زیادہ مت بڑھو ایسانہ ہو کہ تم اپنی باتوں سے پکڑے جاؤ اور پھر اس دکھ کے مقام میں تمہیں یہ کہنا پڑے کہ
مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالاً كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ ۲
آں نہ دانائی بود کز نا شکیبائی نفس
خویشتن را زود تر بر ضد و انکار آورد
صبر بائد طالب حق را کہ تخم اندر جہاں
ہر چہ پنہاں خاصیت دار دہماں بار آورد
اند کے نور فراستؔ باید ایں جامردرا
تا صداقت خویشتن راخود باظہار آورد
صادقاں را صدق پنہانی نمے ماند نہاں
نور پنہاں برجبیں مرد انوار آورد
ہر کہ از دست کسے خورد است کا سات وصال
ہرزمان رویش سرورِ واصل یار آورد
اے مسلمانوں! اگرتم سچے دل سے حضرت خدا وند تعالیٰ اوراس کے مقدس رسول علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہو اورنصرت الٰہی کے منتظر ہو تو یقیناًسمجھو کہ نصرت کا وقت آگیا اور یہ کاروبارانسان کی طرف سے نہیں ا ورنہ کسی انسانی منصوبہ نے اس کی بناڈالی بلکہ یہ وہی صُبح صادق ظہور پذیر ہو گئی ہے جس کی پاک نوشتوں میں پہلے سے خبر دی گئی تھی خدائے تعالیٰ نے بڑی ضرورت کے وقت تمہیں یاد کیا قریب تھا کہ تم کسی مہلک گڑھے میں جا پڑتے مگر اُس کے
۱ بنی اسرائیل: ۳۷ ۲ ص:۶۳