اسلام کی زندگی مسلمانوں کی زندگی اور زندہ خدا کی تجلّی موقوف ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کا دوسرے لفظوں میں اسلام نام ہے۔ اسی اسلام کا زندہ کرنا خدا تعالیٰ اَب چاہتا ہے اور ضرور تھا کہ وہ مہم عظیم کے روبراہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کارخانہ جو ہر ایک پہلو سے
موثر ہو اپنی طرف سے قائم کرتا۔ سو اُس حکیم وقدیر نے اس عاجز کو اصلاح خلائق کے لئے
جو زکریا کا بیٹا تھا یہودیوں نے ہر گز قبول نہیں کیا حالانکہ مسیح نے اس کے بارے میں شہادت دی کہ یہ وہی ہے جو آسمان پر اُٹھایا گیا تھا جس کے پھر آسمان سے اُترنے کا پاک نوشتوں میں وعدہ تھا۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ استعاروں سے کام لیتا ہے اور طبع اور خاصیّت اور استعداد کے لحاظ سے ایک کا نام دوسرے پر وارد کر دیتا ہے۔ جو ابراہیم کے دل کے موافق دل رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک ابراہیم ہے اور جو عمر فاروق کا دل رکھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک عمر فاروق ہے۔ کیا تم یہ حدیث پڑھتے نہیں کہ اگر اس اُمت میں بھی محدّث ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا ہے تو وہ عمر ہے۔ اب کیا اِس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ محدثیّت حضرت عمر پر ختم ہو گئی۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ حدیث کامطلب یہ ہے کہ جس شخص کی روحانی حالت عمر کی روحانی حالت کے موافق ہو گئی وہی ضرورت کے وقت پر محدّث ہوگا۔ چنانچہ اس عاجزکو بھی ایک مرتبہ اِس بارے میں الہام ہوا تھا فِی ±کَ مَادَة µ فَارُو ±قِیّة µ۔ سو اس عاجز کو اور بزرگوں کی فطرتی مشابہت سے علاوہ جس کی تفصیل براہین احمدیہ میں بہ بسط تمام مندرج ہے حضرت مسیح کی فطرت سے ایک خاص مشابہت ہے اوراسی فطرتی مشابہت کی وجہ سے مسیح کے نام پر یہ عاجز بھیجا گیا تا صلیبی اعتقاد کو پاش پاش کر دیا جائے۔ سو میں صلیب کے توڑنے اور خنزیروں کے قتل کرنے کے لئے بھیجا گیا ہوں۔ میں آسمان سے اُترا ہوں اُن پاک فرشتوں کے ساتھ جو میرے دائیں بائیں تھے۔ جن کو میرا خدا جو میرے ساتھ ہے میرے کام کے پورا کرنے کے لئے ہر ایک مستعد دل میں داخل کریگا بلکہ کر رہا ہے اور اگر میں چُپ بھی رہوں اور میری قلم لکھنے سے رُکی بھی رہے تب بھی وہ فرشتے جو میرے ساتھ اُترے ہیں اپنا کام بند نہیں کر سکتے اور اُنکے ہاتھ میں بڑی بڑی گرزیں ہیں جو صلیب توڑنے اور مخلوق پرستی کی ہیکل کچلنے کے لئے دئے گئے ہیں