اور کبھی بعض سے بعض کو الگ کر دیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس اعتقاد میں صرف اتنی ہی خرابی نہیں کہ پرمیشر کو قادر مطلق ہونا چاہئے۔ عاجز اور ناتواں سمجھا گیا ہے اور قدیم اور غیر مخلوق ہونے میں کل اجزاء عالم کے اس کے شریک اور حصہ دار اور بھائی بند ٹھہرائے گئے ہیں اور ہر یک موجود اپنے اپنے نفس کا آپ مالک قرار دیا گیا ہے گویا پٹی داری گانوں کی طرح قدامت اور وجوب و جود کی جنس پر سب ارواح اور پُر خیر کا برابر اور یکساں دخل اور قبضہ چلا آیا ہے بلکہ ایک بڑی بھاری خرابی وید کے اصول سے یہ بھی پیش آئی کہ عقلی طور پر پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل باقی نہ رہی کیونکہ جس حالت میں تمام عالم بجمیع اجزائیہ خود بخود قدیم سے موجود ہے اور پرمیشر کا کام صرف تالیف اور تفریق ہے تو پھر اس سے وجود پرمیشر کا کیونکر ثابت ہو سکے۔ بھلا تم آپ ہی غور سے دیکھو اور انصاف کرو کہ دنیا کی تمام چیزوں میں سے کوئی چیز بھی اپنے وجود کی پیدائش میں پرمیشر کی محتاج نہیں تو پھر اُس پر کیا دلیل ہے کہ اپنی تفریق یا اتصال میں پرمیشر کی محتاج ہے۔ ظاہر ہے کہ ماسوا اللہ کے وجود سے صانع عالم کے وجود پر اسی وجہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ ماسوا اللہ کا وجود خود بخود ہونا بہ بداہت عقل محال ہے اور جس حالت میں یہ تسلیم کیا جائے اور قبول کیا جائے کہ ماسوا اللہ بھی خود بخود ہو سکتا ہے تو عقل کو خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین کرنے کیلئے کون سی راہ باقی رہے گی۔ کیا ایسے ایسے ناپاک اعتقادوں سے دہریہ مذہب والوں کو مدد نہیں پہنچے گی۔ غرض یہ وید کی ایک ایسی فاش غلطی ہے کہ اس کے تابعین کو اُس کے جواب میں کوئی بات نہیں آتی اور وہ لوگ کسی طور سے پرمیشر کے وجود پر کوئی دلیل بیان نہیں کر سکتے اور کیوں کر بیان کر سکیں جب آپ ہی پرمیشر کی طرح قدیم اور واجب الوجود ٹھہرے تو پرمیشر سے اُن کو کیا تعلق اور غرض رہا اور اُس کے وجود کی کونسی ضرورت اور حاجت رہی۔
اب دیکھنا چاہئے کہ ایک طرف تو وید خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کے ثابت کرنے کے لئے آئینہ ہونے کی لیاقت نہیں رکھتا یعنی طالبان حق کو شہودی طور پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر یقین نہیں دلا سکتا بلکہ طرح طرح کی بدگمانیوں میں ڈالتا ہے اور پھر دوسری طرف اُس میں یہ خرابی پیدا ہوگئی کہ عقلی طور پر بھی وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا ثبوت دینے سے بے نصیب اور بے بہرہ ہے