تو اب منصف سوچ سکتا ہے کہ معرفت الٰہی کے دونوں طریقوں عقلی اور شہودی سے ہندوؤں کا وید کس قدر دور اور مہجور ہے اور جس قدر ہم نے اب تک بیان کیا کچھ یہی ایک اصول وید کا ایسا نہیں ہے کہ جو عقل کے برخلاف ہو بلکہ وید کے سارے اصول جو بنیاد دھرم کی سمجھے جاتے ہیں ایسے ہی ہیں۔ہاں وید کی رو سے پہلی ہدایت تو یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کسی چیز کا خالق نہیں۔ مگر اس کے سوا وید کی دوسری ہدایتیں بھی ایسی ہی ہیں۔ جن کے پڑھنے سے عاقل کو ضرور یہ شک پڑے گا کہ شاید وید کا زمانہ کوئی ایسا زمانہ تھا جس میںہنوز ایک دو اصول وید کے اور بھی لکھتے ہیں تا جو جو لوگ وید کی اندرونی حقیقت سے بے خبر ہیں اُن کو اس عجیب کتاب کے حالات کسی قدر معلوم ہو جائیں۔ سو منجملہ اُن کے ایک یہہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات میں ایک ذرا رحم اور عفو نہیں اور کسی گناہ گار کے گناہ کو اُس کے توبہ و استغفار سے ہرگز نہیں بخشتا اور جب تک ایک گناہ کی سزا میں چوراسی لاکھ جون میں ڈال کر شخص مجرم کو دنیا کی عمر سے ہزار ہا درجہ زیادہ عذاب نہ پہنچاوے اُس کا غصہ فرو نہیں ہوتا اور گو انسان اپنے گناہ سے باز آ کر پرمیشر کی محبت اور اطاعت میں فنا ہو جائے تب بھی جب تک پرمیشر اُس کو لاکھوں جونوں میں ڈالنے سے سزا نہ دے۔ تب تک ہرگز اس کا پیچھا نہیں چھوڑتا اب دیکھنا چاہئے کہ اس اصول میں صرف اتنی ہی قباحت نہیں کہ پرمیشر کو ایک ایسا شخص ماننا پڑتا ہے کہ جو نہایت درجہ کا سنگدل اور بے رحم ہے کہ جوجھکنے والوں کی طرف ہرگز نہیں جھکتا اور محبت کرنے والوں سے ہرگز محبت نہیں کرتا اور ایک ادنیٰ خطا یا قصور سے ایسا چِڑ جاتاہے کہ پھر کوئی بھی طریق اُس کے راضی ہونے کا نہیں بلکہ ایک بڑی قباحت یہ بھی ہے کہ اس اصول کے رُو سے نجات پانے کا راستہ بکُلی مسدود ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں محنت اور مجاہدہ کرنا اور اس کی اطاعت اور عبادت میں دل لگانا سرا سر لغو اور بے فائدہ ٹھہرتا ہے کیونکہ جس حالت میں پرمیشر ایسا کینہ ور اور پُر غضب ہے کہ کسی خطا کے سرزد ہونے سے بجز لاکھوں برسوں تک جونوں میںڈالنے کے ہرگز کسی بندہ پر رحم نہیں کر سکتا تو پھر اس حالت میں وہ نومید بندہ کہ گویا ایک گناہ کر کے جیتے جی ہی مر گیا ہے کیونکر