قادر ہونا اور اپنے نبیوں اور مرسلوں کا حامی اور ناصر اور مؤید ہونا اگرچہ عقلی طورپر بھی ضروری اور محمود سمجھا جاتا ہے لیکن یہ بھی ضرور ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام مشہودی طور پر اپنی قدرت کاملہ اور حمایت اور نصرت خاصہ کا ایسا عمدہ اور کامل نمونہ دکھلاوے جس کو لوگ دیکھ کر اپنے ایمان اور اعتقاد پر قوی ہو جائیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی دوسری صفات بھی اسی طورپر خداتعالیٰ کے کلام میں ثابت ہو جانی چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اس کی ذات اور صفات کے پہچاننے کے لئے ایک نہایت صاف اور شفاف آئینہ ہے جو ہم عاجز اور بے خبر بندوں کو اس غرض سے عنایت ہوتا ہے تا کہ ہماری معرفت صرف عقلی اور قیاسی خیالات تک محدود نہ رہے۔ بلکہ ہم اُن تمام پاک صداقتوں کو بچشم خود دیکھ بھی لیں کیونکہ اگر خدا تعالیٰ نے صرف اسی قدر ہم کو بذریعہ اپنی کتاب کے معفرت اور بصیرت عنایت کری جس قدر بذریعہ عقل بھی ہم کو حاصل ہو سکتی ہے تو پھر ربّانی تعلیم اور عقلی تفہیم میں کیا فرق رہا اور اس بات میں خدا تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لانے والوںکو برہمو سماج والوں پر (جو صرف عقلی اٹکلوں پر چلتے ہیں) کونسی ترجیح ہوئی۔ سو اِس تحقیق سے یہ ہدایت عقل ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں یہی عمدہ خوبی ہے کہ جن صداقتوں کو ہماری عقل ناقص صرف قیاسی طور پر پیش کرتی ہے اُن صداقتوں کو خدا کا کلام ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر دکھلا بھی دیتا ہے۔ مثلاً جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے کہ عقل یہ تجویز کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے۔ سو خدا تعالیٰ کا کلام صدہا پیشگوئیوں سے جو صحیح طور پر پوری ہوگئیں ہم پر اس صداقت کو یقینی اور قطـعی طور پر کھول دیتا ہے لیکن وید اس مرتبہ اعلیٰ سے جو خدا کی ذات اور صفات کا آئینہ ہو سکے۔ ہزاروں کوس دور اور مہجور ہے بلکہ مجرد عقلی طور سے بھی خدا اور اُس کی صفات کا ثبوت دینے سے ویدعاجز ہے کیونکہ وید کا پہلا اصول یہ ہے کہ عالم بجمیع اجزائیہ انادی یعنی قدیم اور غیر مخلوق اور پرمیشر کی طرح واجب الوجود ہے اور پرمیشر نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا اور نہ پیدا کرنے کی اُس کو طاقت و لیاقت ہے بلکہ اُس کا صرف اتنا ہی کام ہے کہ بعض چیزوں کو بعض سے جوڑتا ہے مثلاً جسم کا قالب بنا کر روح کو اس میں داخل کر دیتا ہے یا کبھی قالب سے روح کو نکال دیتا ہے۔ سو یہی تالیف اور تفریق پرمیشر سے ہو سکتی ہے اس سے زیادہ نہیں یعنی اگر پرمیشر کچھ کام کر سکتا ہے تو بس یہی ہے کہ بعض اجزائے عالم کو بعض سے جوڑتا ہے