انشاء اللہ بہ تفصیل بیان کریں گے۔ اب صرف اجمالی طور پر لکھا جاتا ہے کہ ہندوؤں کے وید نعمت توحید سے بالکل بے نصیب اور تہی دست اور محروم ہیں۔ اس جگہ یہ ذکر کرنا بھی فائدہ سے خالی نہیں کہ وہ کتابیں جو وید سے موسوم کی گئی ہیں۔ ایک شخص کی تالیف نہیں ہیں بلکہ مختلف لوگوں نے مختلف وقتوں میں اُن کو تالیف کیا ہے اور مؤلفین کے نام اب تک منتروں کے سر پر جدا جدا لکھے ہوئے پائے جاتے ہیں اور وہ منتر بطور شعر کے ہیں جو دیوتاؤں کی تعریف میں خوش اعتقاد لوگوں نے بنائے تھے ان کتابوں کے پڑھنے سے ہرگز یہ پایا نہیں جاتا کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو کسی ایک یا چند پیغمبروں پر نازل کیا تھا بلکہ منجانب اللہ ہونے کا ذکر بھی نہیں۔ جابجا منتروں کے سر پر یہی لکھاہوا نظر آتا ہے کہ یہ منتر فلاںشخص نے تالیف کیا ہے اور یہ فلاں شخص نے اور یہی وجہ ہے کہ زمانہ حال کے مصنفوں نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ وید ایسی کتاب نہیں جو یہ دعویٰ کرتی ہو کہ میں آسمانی کتا ہوں اور فلاں فلاں پیغمبر پر اُتری تھی بلکہ ایک مجموعہ اشعار ہے جس کو کئی ایک شاعروں نے اوقات مختلفہ میں جوڑا ہے۔ ماسوائے اس کے وید میں یہ بات بھی نہیں کہ جیسے ربّانی کتاب ربّانی قدرتوں اور صفتوں کا ایک آئینہ ہونی چاہئے اور خدا تعالیٰ کے وجود اور اُس کی قدرت تامہ اور اُس کی غیبت بینی اور اُس کی خالقیت اور عزاقیت وغیرہ صفات کو صرف عقلی طورپر ثابت نہ کرے بلکہ آسمانی نشان کے طور پر طالبِ حق کو مشاہدہ کروائے کہ خدا فی الحقیقت موجود اور اُس میں یہ صفات موجود ہیں کیونکہ درحقیقت ربّانی کتابوں کے نازل ہونے سے عمدہ فائدہ یہی ہے کہ خدا اور اُس کی صفات کو نہ صرف عقلی اور قیاسی طور پر شناخت کیا جائے بلکہ آسمانی کتاب خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کو ایسا ثابت کر کے دکھلاوے کہ اُس کے پیروان تمام امور میں گویا رویت کے گواہ ہو جائیں اور اس طرح پر وہ اپنے ایمان کو اس کمال کے درجہ تک پہنچا دیں جس پر مجرد عقل کی پیروی سے انسان پہنچ نہیں سکتا۔ مثلاً خدا تعالیٰ میں جو صفت غیب دانی ہے اگرچہ عقلی طور پر انسان یہ خیال کر سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ غیب دان ہونا چاہئے لیکن ربّانی کتاب میں شہودی طور پر اس بات کا ثبوت دینا از بس ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ حقیقت میں غیب دان ہے اور وہ ثبوت اس طرح پر میسر آ سکتا ہے کہ ربّانی کتاب میں بہت سی پیشگوئیاں اور اخبار غیبیہ درج ہوں جو لوگوں کے سامنے پوری ہو چکی ہوں۔ علیٰ ہذا القیاس خدا تعالیٰ کا