کہ وہ پنڈت دیانند کے وید بھاش کو دیکھ کر اپنی اپنی رائے لکھیں۔ اب قصہ کوتاہ یہ کہ سب کے سب پنڈتوں نے بالاتفاق یہ رائے لکھی کہ یہ وید بھاش دیانند کا سرا سر غلط اور پوچ اور لغو ہے وید کی مخلوق پرستی کی تعلیم اور جابجا دیوتاؤں کی پوجا کے لئے ترغیب اور تحریک ایسا امر نہیں ہے کہ اُس کو چھپا سکیں یا پوشیدہ رکھ سکیں۔ سو دیانند کا وید بھاش ویدوں سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ ہاں اُس کو ایک نیا وید کہیں جس کے پنڈت صاحب بھی مصنف ہیں تو یہ کہنا بجا اور درست ہے اس رائے کے پہنچنے سے صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر نے پنڈت دیانند کی درخواست کو نامنظور کر کے اُن کو اطلاع دے دی کہ یہ وید بھاش تمہارا عام رائے پنڈتوں سے برخلاف ہے۔ اس لئے قابل منظوری نہیں۔ اب دیکھنا چاہئے کہ اگر وید میں ایک ذرّہ بھی توحید کی بُو پائی جاتی تو کیونکر تمام ہندوستان کے پنڈت اُس سے انکاری یا غافل رہتے اور اگر بفرض محال یہ بھی تسلیم کر لیں کہ وید میں بطور معما یا چیستان اور پھیلی کے ایک چھپی ہوئی توحید ہے جس پر صرف پنڈت دیانند کو اطلاع ہوئی اور دوسری تمام دنیا اس سے بے خبر رہی تو پھر یہ سوال عاید ہو گا کہ ایسی پیچیدہ اور سربمہر توحید سے دنیا کو کیا فائدہ ہوا اور بجز اس کے کہ لاکھوں بندگانِ خدا وید کے اُلٹے معنی سمجھ کر دیوتا پرستی میںمبتلا ہوئے اور کیا نتیجہ ایسے پیچیدہ بیان سے نکلا۔ کیا ہندوؤں کے پرمیشر کو بات کرنے کا سلیقہ بھی یاد نہیں کہ بجائے اس کے جو توحید کو کہ جو اُس کا اصل مطلب تھا واضح تقریر سے بیان کرتا ایسے بے سروپا اور غیر فصیح لفظوں میں بیان کیا کہ جس سے لوگ کچھ کا کچھ سمجھنے لگے اور ہزاروں دیوتاؤں کی ہندوؤں میں پوجا شروع ہوگئی اور مخلوق پرستی اُس حد تک پہنچ گئی جس کی نظر دنیا میں نہیں پائی جاتی اور یہ تو ہم نے بطور مثال لکھا ہے اور ایک فرضی طور پر بیان کیا ہے ورنہ اگر کوئی ذرا آنکھ کھول کر ایک صفحہ وید کا بھی پڑھے تو بہ یقین تمام اُس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی عبارت کا اصلی مقصد اور مطلب یہی ہے کہ دیوتاؤں کی پوجا کرائی جاوے۔ مگر پنڈت دیانند نے اس بدیہی بات کو چھپانے کے لئے کوشش کرنا چاہا۔ آخر ناکام رہے اور بجائے اس کے کہ وید میں توحید ثابت کرتے اور اس عیب سے مبرا ہونا اُس کا بہ پایا ثبوت پہنچاتے کئی ایک اور عیب بھی جو وید میں پائے جاتے ہیں اُنہوں نے ظاہر کر دکھائے اور یک نہ شُد دو شُد کا معاملہ ہو گیا۔ جس کو ہم اپنی کتاب براہین احمدیہ کے حصہ پنجم میں