وید کو کھول کر دیکھتے ہیں تو ہندوؤں کو اُن کے اس بیان میں راست گو پاتے ہیں اور ہندوؤں کی مشرکانہ حالت جو ہزاروں برس سے چلی آتی ہے وہ اُن کی خود تراشیدہ معلوم نہیں ہوتی بلکہ وید کی پیروی کے نتائج ہیں جو بطور داغ ملامت یا کلنک کے ٹیکے کے وید کی اندرونی حالت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تھوڑے دنوں سے پنڈت دیانند سورستی نے (جو اَب اس دنیا سے کوچ کر گئے ہیں) اس خیال سے کہ اَب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ مشرکانہ تعلیم ہر یک سلیم القلب کو بُری معلوم ہوتی ہے۔ اس بے بنیاد خیال کے ثابت کرنے کیلئے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کسی طرح داغ مخلوق پرستی کی تعلیم کا وید کی پیشانی سے دھویا جائے اور بر خلاف اپنی تمام قوم کے یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ اگرچہ وید میں بظاہر مشرکانہ تعلیم معلوم ہوتی ہے۔ مگر درپردہ اُس کی اندر کی تہہ میں توحید چھپی ہوئی ہے لیکن وہ اس اپنے مطلب کے پورا کرنے کیلئے کامیاب نہ ہو سکے۔ ہندوستان و پنجاب کے تمام محقق پنڈتوں نے آپ کے خیالی وید بھاش کو ردّ اور نامنظور کیا اور اُس پر یہ ریویو لکھے کہ پنڈت صاحب کا یہ وید بھاش اصل میں ویدوں کی تفسیر نہیں ہے بلکہ اُس کو ایک نیا وید سمجھنا چاہئے جس کو پنڈت صاحب اپنے من گھڑت سے بنا رہے ہیں۔ ہندوؤں کے وید سے اُس کو کچھ تعلق نہیں بلکہ اُس سے سراسر مخالف اور منافی ہے اور جب پنڈت صاحب نے دیکھا کہ ہندوستان اور پنجاب کے پنڈتوںمیں ہماری دال نہیں گلتی اور کوئی ہمارے دھوکہ میں نہیں آتا تو پھر انہوں نے ایک اور تدبیر سوچی کہ وہ مصنوعی وید بھاش یونیورسٹی میں درسی کتاب بنانے کے لئے سرکار انگریزی میں پیش کیا جائے تو پنڈت صاحب نے ایسا ہی کیا اور صاحب لفٹنٹ گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک درخواست معہ چند جز اپنے وید بھاش کے بدیں التماس مرسل کئے کہ یہ وید بھاش میرا یونیورسٹی لڑکوں کو پڑھایا جائے کیونکہ میں نے بڑی ہمت اور بہادری کر کے وید میں توحید ثابت کر دکھائی ہے اور وہ لاکھوں پنڈت جھوٹے ہیں جو وید کو توحید سے خالی سمجھتے ہیں۔ اس پر صاحب لفٹنٹ بہادر کو درخواست کے سننے سے بہت تعجب ہوا کہ کیونکر اور کیسے ممکن ہے کہ وید جو اپنی مشرکانہ تعلیم میں سارے جہان میں اعتراضوں کا نشانہ بنا ہوا ہے اور ضرب المثل ہے وہ شرک اور دیوتا پرستی سے خالی ہو۔ سو اُنہوں نے وہ درخواست یونیورسٹی کے چیدہ اور منتخب پنڈتوں کے پاس بھیج دی