یہی جواب دیتا ہے کہ یہ سب طریق پرستش کا وید میں درج ہے اور اس کی ہدایت کی موافق ہم اُن چیزوںکی پرستش کر رہے ہیں اور درحقیقت یہ جواب اُس کا سچ ہے کیونکہ جس قدر ہندوؤں کی آتش پرستی و آب پرستی و آفتاب پرستی وغیرہ پرستشیں جاری ہیں۔ اُن سب پرستشوں کا حکم وید ہی میں مندرج ہے اور نہ ایک اور نہ دو جگہ بلکہ صدہا جگہ اُن چیزوں کی پوجا کے لئے تاکید ہے اور وید کا کوئی ایسا صفحہ نہیں جو مخلوق پرستی کی تعلیم سے خالی ہو۔ جیسا کہ یہ بات اُس شخص پر کھل سکتی ہے کہ جو وید کو اپنے ہاتھ میں لے کر کسی جگہ سے اُس کو پڑھتے۔ غرض کہ وید کا یہ مقصود ہرگز نہیں ہے کہ وہ خلق اللہ کو توحید پر قائم کرے بلکہ اوّل سے آخر تک وید میں یہی تاکید پائی جاتی ہے کہ آگ اور ہوا اور سورج اور چاند اور ستاروں اور پانی وغیرہ کی پرستش کرنی چاہئے اور ان ہی چیزوں سے اپنی مرادیں مانگنی چاہئے۔ یہی باعث ہے کہ جو کچھ آج تک وید کی تعلیم کاہندؤوں کے دلوں پر اثر پڑا ہے۔ وہ یہی مخلوق پرستی ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ کسی حصہ پنجاب یا ہندوستان میں ایسے ہندو بھی پائے جاتے ہیں جو مخلوق پرستی سے بیزار اور اپنے تمام عقاید اور عبادات میں موحد ہیں۔ حاشا وکلا ہرگز ثابت نہیں ہو سکتا بلکہ جہاں جاؤ اور جس ملک میں دیکھو جا بجا ہندو لوگ سخت درجہ کے شرک اور مخلوق پرستی میں گرفتار ہیں یہاں تک کہ انسان سے لے کر حیوانات اور نباتات تک ان نادانوں نے اپنے معبود ٹھہرائے ہیں۔ نہ پانی چھوڑا، نہ آگ، نہ ہوا، نہ پتھر بلکہ دنیا میں جو چیز از قسم اجرام علوی میں یا اجسام سفلی میں نظر آتی ہے وہ سب کے سب ہندوؤں کے معبود اور دیوتے ہیں اور جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں اس قدر مخلوق پرستی میں ہندوؤں کا قصور نہیں ہے بلکہ یہ تمام قصور وید اور اُس کے شائع کرنے والوں کا ہے۔ غرض وید جس جنس سے بھرا ہوا ہے وہ سب شرک ہے اور جو کچھ وید نے دنیا کو فائدہ پہنچایا وہ مشرکانہ تعلیم ہے جس میں آج تک سب ہندو مبتلا اور گرفتار ہیں اور کوئی ہندو اس مشرکانہ حالت میں اپنی غلطی اور قصور کا اقرار نہیں کرتا بلکہ سارے کے سارے یہی کہتے ہیں کہ یہ تحفہ ہمارے وید مقدس سے ہم کو ملا ہے اور اُس نے اس راہ پر ہم کو چلایا ہے اور جب ہم بذات خود