مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی اور مربی ہیں اپنا عجز اور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کر لیں۔ وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کر کے اس تحریر کا آپ کو اختیار دیں۔ پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔
(ب) درصورت تخلف وعدہ جانب سامی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں تا کہوہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے (ایک اخبار تائید اسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہل اسلام کے لئے قائم ہو) آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے پیشگی روپیہ نہیں لے سکتے اور اگر آپ آسمانی نشان کے مشاہدہ کے لئے نہیں آنا چاہتے صرف مباحثہ کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر سے میری خصوصیت نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس اُمّتِ محمدیہ میں علماء اور فضلا اور بہت ہیں جو آپ سے مباحثہ کرنے کو تیار ہیں میں جس امر سے مامور ہوچکا ہوں اُس سے زیادہ نہیں کر سکتا اور اگر مباحثہ بھی مجھ سے ہی منظور ہے تو آپ میری کتاب کا جواب دیں۔ یہ صورت مباحثہ کی عمدہ ہے اور اس میں معاوضہ بھی زیادہ ہے۔ بجائے چوبیس سَو روپیہ کے دس ہزار روپیہ۔
(۳۰؍ مئی ۱۸۸۵ء)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہنچا ایک خط وید کی حقیقت میں معہ چند اشعار مولوی عبدالمجید صاحب بذریعہ پمفلٹ آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ ویدوں کی نسبت ہندوؤں کی طرف سے کبھی یہ دعویٰ نہیں ہوا کہ اُن کی تعلیم شرک اور مخلوق پرستی سے خالی ہے بلکہ سب ہندو جو تقریباً چودہ یا پندرہ کروڑ پنجاب اور ہندوستان میں رہتے ہیں۔ بڑے پیار سے اُن دیوتاؤں کو مانتے ہیں جو وید میں لکھے گئے ہیں اور جس ہندو سے اُس کی بُت پرستی یا آتش پرستی یا دوسری ہزاروں دیوتاؤں کی پوجا کی نسبت سوال کیا جائے کہ کسی کتاب کے حکم سے یہ کام اختیار کیا گیا ہے تو وہ جھٹ