بکلّی ناواقف معلوم ہوتے ہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ کسی فرصت کے وقت ان کی نسبت کچھ تحریر کیا جائے گا۔ اس عاجز کا یہ حال ہے کہ بعض گذشتہ اور تازہ الہامات سے قرب اجل کے آثار پائے جاتے ہیں گو صفائی سے نہیں بلکہ مشتبہ اور ذومعنیں الہام ہیں تا ہم فکر سے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ اسی وجہ سے میں نے اپنی تمام ہمت کو اس طرح مصروف کیا ہے۔ حصہ پنجم کی عبارت کو جلد مرتب اور بامحاورہ کر کے اور جو کچھ اس میں زائد داخل کرنا ہے وہ داخل کر کے توکلاً عَلٰی اللّٰہ چھپوانا شروع کر دوں کہ اس ناپائیدار اور ہیچ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔ آپ بھی دعا کریں اور اخومی منشی احمد جان صاحب کو بھی لکھیں کیونکہ بعض تقدیرات بعض دعاؤں سے ٹل جاتی ہیں۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔ عاجز بدل و جان حضرت خداوندکریم سے آپ کے لئے دعا مانگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں آپ کو خوش رکھے۔ جس قدر انسان عالی ہمت اور صابر ہوتا ہے۔ اُسی قدر تکالیف سے آزمایا جاتا ہے۔ بیگانہ جس میں زہر کا تخم ہے۔ اس لائق ہرگز نہیں ہونا کہ خدا تعالیٰ اُس کو ایسے ابتلا میں ڈالے جس میں صادقوں کو ڈالتا ہے۔ سو مبارک وہی ہیں جن کوخدا درجات عطا کرنے کیلئے دنیا کی تلخیوں کا کچھ مزہ چکھاتا ہے۔ دنیا کی حالت یکساں نہیں رہتی جس طرح دن گزر جاتا ہے۔ آخر رات بھی اسی طرح گزر جاتی ہے۔ سو جو شخص خدا تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتا ہے وہ مصیبت کی رات کو ایسی کاٹتا ہے جیسے کوئی سونے کی حالت میں رات کو کاٹتا ہے اگر پروردگار ایمان کو بچائے رکھے تو مصیبت کچھ چیز نہیں لیکن اگر مصیبت کچھ بھی ہو اور مدد ایمانی منقطع ہو جائے تو نَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔ یہ عاجز تو حضرت خداوندکریم سے امید بھی رکھتا ہے کہ آپ کے ہموم و غموم بفضلہ تعالیٰ دور ہوں اور اجر حاصل اور غم زائل ہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ چند اشتہارات ارسال خدمت میں۔ والسلام (۹؍جون ۱۸۸۵ء۔ ۲۴ ؍ شعبان ۱۳۰۲ھ) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ از عاجز عایذ باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم ومکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔