السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا ان دنوںمیں ایک شخص اندر من نام جو ایک سخت مخالف اسلام ہے اور کئی کتابیں ردّ اسلام میں اُس نے لکھی ہیں۔ مراد آباد سے اوّل نابھہ میں آیا اور راجہ صاحب نابھہ کی تحریک سے میرے مقابلہ کیلئے لاہور میں آیا اور لاہور میں آ کر اس عاجز کے نام خط لکھا کہ اگر چوبیس سَو روپیہ نقد میرے لئے سرکار میں جمع کرا دو تو میں ایک سال تک قادیان میں ٹھہروں گا سو یہ خط اُس کا بعض دوستوں کی خدمت میں لاہور میں بھیجا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دولتمند مسلمان نے ایک سال تک ادا ہو جانے کی شرط سے چوبیس سَو روپیہ نقد اس عاجز کے کارپردازوں کو بطور قرضہ کے دے دیا اور قریب دو سَو مسلمان کے جن میں بعض رئیس بھی تھے جمع ہو گئے اور وہ روپیہ مع ایک خط کے جس کی ایک کاپی آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اندرمن کے مکان پر جہاں وہ فروکش تھا لے گیا مگر اندرمن غالباً اس انتظام کی خبر پا کر فرید کوٹ کی طرف بھاگ گیا۔ آخر وہ خط بطور اشتہار کے چھپوایا گیا اور شہر میں تقسیم کیا گیا اور دو رجسٹری شدہ خط راجہ صاحب نابھہ اور راجہ صاحب فرید کوٹ کے پاس بھیجے گئے اور بعض آریہ سماجوں میں بھی وہ خطوط بھیجے گئے۔ شاید اگر یہ کسی راجہ کے کہنے کہانے سے اندر من نے اس طرف رُخ کیا تو پھر اطلاع دی جائے گی۔ بالفعل اللہ تعالیٰ نے میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رکھا۔ فالحمدللہ علی ذالک نقل اشتہار منشی اندر من صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوع خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھاکہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کر لو اور نہ موعود اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقمیہ ذیل معہ دو ہزار چار سَو روپیہ نقد ایک جمعیت اہل اسلام کے ذریعہ سے ان کی خدمت میں روانہ لاہور کیا۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود میں پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن