مشورہ سے قریب مصلحت معلوم ہوا کہ بالفعل صرف پانچ سَو خط چھپوایا جائے۔ جس میں کچھ انگریزی اور کچھ اُردو ہوں گے۔ ان خطوط کے چھپوانے اور روانہ کرنے میں بھی ایک سَو پچاس یا کچھ زیادہ روپیہ خرچ آ جائے گا۔ مگر یہ کام اتمام حجت کے لئے کیا گیا ہے تا ہر یک ضلع میں بڑے بڑے پادریوں اور پنڈتوں کی طرف اور بعض راجوں اور رئیسوں کی طرف بھی اور بعض علماء اور گدی نشینوں کی طرف بھی روانہ کئے جائیں اور پھر جب اُن سب کی اطلاع یابی ہوکر آجائے تو اُن سبکے نام بغرض اظہار اِتمام حجت حصہ پنجم میں درج کئے جائیں۔ سو اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اور اُس کے ارادہ میں ہوا تو یہ کام انجام پذیر ہو جائے گا ورنہ ہرچہ مرضی مولیٰ ہمان اولیٰ۔ مکتوب حضرت یحیٰ منیری کا مضمون جو آپ نے لکھا ہے بہت ہی عمدہ ہے اور منصف کے لئے کافی۔ والسلام
(دوم مارچ ۱۸۸۵ء ۔ ۱۲؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۲ھ)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
از عاجزعایذبااللہ الصمد غلام احمدبخدمت اخویم مخدوم و مکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد ہذا عنایت نامہ آنمخدوم پہنچا۔ حال معلوم ہوا۔ جس قدر آنمخدوم نے اشاعت دین اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے رنج اُٹھایا ہے خدا تعالیٰ اُس کے عوض میں آپ پر اس طور سے راضی ہو کہ جیسا اپنے سچے خادموں اور مقبولوں پر راضی ہوا کرتا ہے۔ آمین ثم آمین۔ فی الحقیقت مسلمانوں کی عجیب نازک حالت ہو رہی ہے جس عظمت اور بزرگی کو خدا اور رسول میں ماننا تھا۔ وہ اور اور چیزوں کو دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے اور اپنے سچے دین کی حمایت میں وہ تائید دکھلاوے جن سے ان کور باطنوں کی آنکھوں کھلیں۔ ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حقیقت اور کیا کر سکتے ہیں۔ اگر ہمارے ہاتھوں میں توفیق ایزدی کچھ ہے تو صرف تضرعات ہیں اگر ربّ العرش تک پہنچ جائیں لیکن دل پُر درد کا یہ حال ہے کہ نہ بہشت کے نعماء کے لئے طبیعت کو جوش ہے اور نہ دوزخ کے آلام کی فرک ہے بلکہ دل اور جان اسی تمنا میں غرق ہو رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان بدعات کے داغوں کو اسلام کی خوبصورت شکل سے دور کرے اور اپنی خاص حمایت اور نصرت سے عظمت اور بزرگی اپنے کلام کی لوگوں پر ظاہر فرما دے۔ آمین!
مرزا جان جانان صاحب کے خط کا ردّ کچھ مشکل نہیں۔ مرزا صاحب مرحوم ہندوؤں کے اصولوں سے