کہ آپ کے چند خطوط جو علوم دین کے استفسار میں تھے۔ اُس کا جواب مجھ سے نہیں لکھا گیا اور اب ضعف دماغ و درد سر کا یہ حال ہے کہ جو کچھ کھایا جاتا ہے۔ اُس کی تبخیر ہو کر درد شروع ہو جاتا ہے۔ اس بات کی ابھی تسلی نہیں کہ عمر کا کیا حال ہے۔ بعض عوارض لاحقہ میں اندیشہ موت کا پیدا ہو جاتا ہے۔ کام کتاب کا ہنوز شروع نہیں کیا گیا۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے گا تو یہ کتاب پوری ہو جائے گی۔
(۲۴؍جون۱۸۸۵ء مطابق ۱۰ رمضان ۱۳۰۲ھ)
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدوم ومکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
یہ عاجز چند روز سے امرتسر گیا ہوا تھا۔ آج بروز چار شنبہ بعد روانہ ہو جانے ڈاک کے یعنی تیسرے پہر قادیان پہنچا اور مجھ کو ایک کارڈ میر امداد علی صاحب کا ملا۔ جس کے دیکھنے سے بمقتضائے بشریت بہت تفکر اور تردّد لاحق ہوا۔ اگرچہ میں بھی بیمار تھا مگر اس بات کے معلوم کرنے سے کہ آپ کی بیماری غایت درجہ کی سختی پر پہنچ گئی ہے مجھ کو اپنی بیماری بھول گئی اور بہت سی تشویش پیدا ہوگئی۔ خدا تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے عمر بخشے اور آپ کو جلد تر صحت عطا فرماوے۔ اسی تشویش کی جہت سے آج بذریعہ تار آپ کی صحت دریافت کی اور میں بھی ارادہ رکھتا ہوں کہ بشرط صحت و عافیت ۱۴؍اکتوبر تک وہیں آ کر آپ کو دیکھوں اور میں خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا ہوں کہ آپ کو صحت عطا فرماوے۔ آپ کے لئے بہت دعا کروں گا اور اب توکلاً علی اللّٰہ آپ کی خدمت میں یہ خط لکھا گیا۔ آپ اگر ممکن ہو تو اپنے دستخط خاص سے مجھ کو مسرور الوقت فرماویں۔
(۸؍ اکتوبر ۱۸۸۴ء مطابق ۱۷؍ ذوالحجہ ۱۳۰۲ھ)
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدوم ومکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ خطوط کے چھپنے کے لئے اس عاجز نے ایک خاص معتبر لاہور میں بھیجا ہوا ہے۔ اگرچہ ارادہ تھا کہ دو ہزار خط چھاپا جائے مگر دو ہزار نوٹس کے بھیجنے میں پانچ سَو روپیہ خرچ آتا ہے کیونکہ ہر ایک خط رجسٹری ہو کر بصرف چار آنا جائے گا۔ اس لئے بعض دوستوں کے