ورنہ بہر طرح خواہ ایک ساعت کے لئے ہو۔ انشا ء اللہ ملاقات آنمخدوم کی ہوگی۔ آگے ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ پردہ غیب میں جو کچھ مخفی ہے کسی کو اس پر اطلاع نہیں۔ آنمخدوم اپنی اصلی صحت پر آگئے ہوں تو اطلاع بخشیں۔ (۴؍ جون ۱۸۸۵ء مطابق دہم رمضان المبارک ۱۳۰۲ھ)
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
از خاکسار غلاماحمد باخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خط آنمخدوم پہنچا۔ یہ عاجز بباعث درد سر و درد پہلو اس قدر بیمار رہا کہ بعض اوقات یہ عارضہ مقدمہ موت جو ہریک بشر کیلئے ضروری ہے معلوم ہوتا تھا۔ اب افاقہ ہے مگر کچھ درد باقی ہے۔ اسی وجہ سے تحریر جواب سے معذور رہا۔ آپ کا خط جو استفسار اختلافات نماز میں ہے وہ بھی اس عاجز کے پاس رکھا ہے مگر کیا کِیا جائے صحت پر موقوف ہے۔ بمبئی والے سوداگر کی بدمعاملگی ایک ابتلاء ہے اس میں صبر بہتر ہے۔ مقدمہ سازی و مقدمہ بازی دنیا داروں کا کام ہے جس کو خدا تعالیٰ نے بصیرت بخشی ہے وہ سب امور خدا تعالیٰ کی طرف سے دیکھتا ہے۔ سو اس میں حضرت خداوند کریم کی کچھ حکمت ہے۔ آپ صبر کریں اور خدا تعالیٰ پر توکّل رکھیں اور جو کچھ حالت عسر و تنگدستی درپیش ہے۔ یہ بھی ابتلا ہے۔ ایسے وقتوں میں مردان خدا اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دعا اور استغفار اور تضرع سے استقامت و مشکل کشائی چاہتے ہیں اور حضرت ارحم الراحمین غراسمہٗ و قادر کریم و رحیم ہے۔ جب بندہ عاجز اپنے کرب اور قلق کے وقت میں ہر یک طرف سے قطع امید کر کے اُس کے دروازہ پر گرتا ہے اور پورے پورے رجوع سے دعا کرتا ہے اور دعا کرنے سے تھکتا نہیں۔ سو خدا تعالیٰ اُس پر رحم فرماتا ہے اور اس کی مخلصی بخشتا ہے۔ تب اُس کو دو لذتیںملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اپنے کرب و قلق سے نجات پاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ دعا کے قبول ہونے میں جو ایک لذت ہے۔ اس سے بھی وہ متمتع ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہایت کریم و رحیم ہے جب بندہ یقین کامل اپنے دردوں اور تکلیفوں کے وقت میں اس کی طرف رجوع کرتا ہے تو ضرور وہ اُس کی سنتا ہے۔ اس عاجز کو اس بات سے افسوس ہے