عنایت نامہ مع مبلغ … روپیہ پہنچا۔ یہ عاجز آپ کا بغایت درجہ شکر گزار ہے اور اپنے مولیٰ کریم جل شانہ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ کو جزائے عظیم بخشے۔ آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلا میں پڑا ہوں اور میں نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے۔ میں نے اُس کو کہا کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے۔ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جلہ شانہٗ کے تصرف میں ہوں۔ جہاں مجھ کوبیٹھائے گا، بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا اور یہ الہام ہوا۔ یدعون لک ابدال الشام و عباد اللّٰہِ من العرب یعنی تیرے لئے ابدال شامل کے دعا کرتے ہیں اور بندے خدا کے عرب میں سے دعا کرتے ہیں۔ خدا جانے یہ کیا معاملہ ہے اور کب اور کیونکر اس کا ظہور ہو۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ مناسب سمجھا تھا آپ کو اطلاع دوں۔
(۶؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۱۹؍ جمادی الثانی ۱۳۰۲ھ)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدوم مکرم اخویم میر عباس علی شاہ صاحب ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا اخلاص اور جوش محبت اپنے کمال کو پہنچ گیا۔ ذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشاء۔ خداوندکریم سے چاہتا ہوں کہ آپ کا نشست خاطر بہ جمعیت مبدل ہو۔ آمین
(۱۹؍ اپریل ۱۸۸۵ء مطابق ۳؍ رجب ۱۳۰۲ھ)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مخدومی ام میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آں مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا چونکہ آنمخدوم کی روح کو اس عاجز کی روح سے بشدت مناسبت ہے اسی وجہ سے تعلقات روحانی کا غلبہ ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ آپ کی حالت کاملہ ابتلاء کے خطرات سے امن میں ہے۔ یہ عاجز بوجہ قلت فرصت تحریر جواب سے قاصر رہا اور مستعد تحریر تھا کہ اسی میں خط پہنچ گیا۔ دہلی کی طرف جانے کے لئے ابھی کچھ معلوم نہیں۔ ہندوستان میں اکثر اطراف بیماری بہت پھیل رہی ہے اگر کسی وقت بطریق عجلت سفر اُس طرف کا پیش آیا۔ تب تو مجبوری ہے