جن تک کوششوں کو راہ نہیں۔ ساری کوششیں اور محنتیں صرف اس حد تک ہیں کہ انسان اپنے نفس اور تمام خلق کو ہیچ اور لاشَے سمجھ کر اور اپنے ہوا اور ارادہ سے باہر ہو کر بکلی خدا تعالیٰ کے لئے ہو جائے اور اپنی ناچیز ہستی، شہود ہستی حقیقی حضرت باری تعالیٰ کے نابود اور معدوم دکھائی دے اور جیسا فی الواقعہ انسان محبت وجود حضرت قادر مطلق کے ہیچ اور ناچیز ہے ایسی ہی حالت پیدا ہو جائے گویا اب بھی وہ نیست ہی ہے۔ جیسا پہلے نیست تھا۔ سو یہ مرتبہ عبودیت کی آخری حد ہے اور یہی اس توحید کا انتہائی مقام ہے کہ جو سعی اور کوشش اور سیرو سلوک سے حاصل کرنا چاہئے۔ یہ سچ ہے کہ بعد اس کے مرتبہ سیر فی اللہ ہے لیکن اس مرتبہ کے حصول کے لئے کوشش کو دخل نہیں بلکہ یہ محض بطریق فضل اور موہیت کے حاصل ہوتا ہے اور کوششیں صرف اُسی مرتبہ فنا تک ختم ہو جاتی ہیں کہ جو اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک شخص کئی منزلیں طَے کر کے بادشاہ کے ملنے کیلئے آیا ہے اور جس قدر ا راہ میں مانع تھے سب سے خلاصی پاکر بادشاہ کے خیمہ تک پہنچ گیا ہے اب خیمہ کے اندر جانا اُس کا کام نہیں ہے بلکہ وہ اپنا کام سب کر چکا ہے اور خیمہ میں داخل کرنا اور بارگاہ میں دخل دینا یہ خاص بادشاہ کا کام ہے کہ جو ایک خاص اجازت بادشاہی پر موقوف ہے۔ ناچیز بندہ کیا حقیقت رکھتا ہے کہ جو اپنی بشری طاقتوں کے ذریعہ سے اور اپنے اختیار سے خود بخود بلا اجازت بارگاہ میں داخل ہو جائے اور اب بباعث ضعف زیادہ لکھ نہیں سکتا۔ آپ نے جو کئی شعروں کے معنی دریافت فرمائے ہیں وہ کسی اور وقت اگر خدا نے چاہا تحریرکروں گا اور امرتسر سے واپس آ گیا ہوں اور واپس آ کر میر مردان علی صاحب کا خط ملا سو اُن کی نسبت اور آنمخدوم کے لخت جگر کی نسبت دعاء خیر کر کے حوالہ بخدا کرتا ہوں جب طبیعت رو بصحت ہوئی انشاء اللہ تعالیٰ بشرط یاد آنمخدوم کے سوال معنی اشعار کے معنوں کی بابت لکھا جائے گا۔
(۱۱؍ مارچ ۱۸۸۴ء مطابق ۱۲؍ جمادی الاوّل ۱۳۰۱ھ)
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ