قسم کے فساد سے محفوظ رہ کر اپنے کمال کو پہنچ جائے اور اپنے کمال تک کسی عمل صالح کا پہنچنا اس بات پر موقوف ہے کہ عامل کی ایسی نیت صالح ہو کہ جس میں بجز حق ربوبیت بجا لانے کی کوئی اور غرض مخفی نہ ہو یعنی صرف اُس کے دل میں یہ ہو کہ وہ اپنے ربّ کی اطاعت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور گو اطاعت بجا لانے پر ثواب مترتب یا عذاب مترتب ہو اور گو اُس کا نتیجہ آرام اور راحت ہو یا نکبت اور عقوبت ہو لیکن بہرحال وہ اپنے مالک کی اطاعت میں رہے گا کیونکہ وہ بندہ ہے۔ پس جو شخص اس اصول پر خدا کی عبادت کرتا ہے وہ اس راہ کی آفات سے امن میں ہے اور امید ہے کہ اس پر فضل ہو لیکن اسے لازم ہے کہ کسی امید پر بنیاد نہ رکھے اور اطاعت اور عبودیت کو ایک حق ربوبیت کا سمجھے کہ جو بہرحال ادا کرنا ہے اور سرگرمی سے خدمت میں لگا رہے اور اپنی کارگزاری اور خدمت کو کچھ چیز نہ سمجھے اور مولیٰ کریم پر احسان خیال نہ کرے دنیا مزرعہ آخرت ہے اور فارغ باشی کچھ چیز نہیں۔ وہی لوگ مبارک ہیں کہ جو دن رات اپنے زور سے اپنے تمام اخلاص سے، اپنے تمام رجوع سے رضائے مولیٰ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ (۲۸؍ فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۹؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ) ٭٭٭ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا آپ نے جو اپنے عنایت نامہ مرقومہ ۲۹؍ فروری ۱۸۸۴ء میں ایک سوال تحریر فرمایا تھا۔ آج تک میں نے بباعث علالت طبع اُس کی طرف توجہ نہیں کی اور اب بھی بباعث ضعف دماغ و درد سر طبیعت حاضر نہیں ہے لیکن جو آنمخدوم کا وہ خط دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ سوال صرف ایک نزاع لفظی ہے کیونکہ جس مرتبہ توحید کو آنمخدوم ابتدائی مرتبہ تصور فرماتے ہیں وہ مرتبہ اس عاجز کے نزدیک ان معنوں کر کے انتہائی مرتبہ توحید کا ہے کہ وہ سیر اولیاء کا منتہا اور آخری حد ہے۔ جس سے فنائے اتم کا چشمہ جوش مارتا ہے۔ اگرچہ درگاہ احدیّت بے نہایت ہے لیکن جس کمال توحید کو انسان اپنے مجاہدہ سے، اپنی کوشش سے اپنے تزکیہ نفس سے، اپنے سیر و سلوک سے حاصل کرنا چاہتا ہے وہ یہیں تک ہے پھر بعد اس کے مخفی تفضلات الٰہیہ اور مواہب لدنیہ ہیں