تو صریح مریم مذکر کا نام رکھا گیا ہے اس لئے برعایت مذکر مذکر کا صیغہ آیا اور یہی قاعدہ ہے کہ جو نحویوں اور صرفیوں میں مسلم ہے اور کسی کو اس میں اختلاف نہیں ہے اور زوج کے لفظ سے رفقاء اور قرباء مراد ہیں۔ زوج مراد نہیں ہے اور لغت میں یہ لفظ دونوں طور پر اطلاع پاتا ہے اور جنت کا لفظ اس عاجز کے الہامات میں کبھی اُسی جنت پر بولا جاتا ہے کہ جو آخرت سے تعلق رکھتا ہے اور کبھی دنیا کی خوشی اور فتحیابی اور سرور اور آرام پر بولا جاتا ہے اور یہ عاجز اس الہام میں کوئی جائے گرفت نہیں دیکھتا۔ (۲۱؍فروری ۱۸۸۴ء مطابق ۲۲؍ ربیع الثانی ۱۳۰۱ھ) بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بعد ہذا یہ عاجز یہ دعا کرتا ہے کہ خواوندکریم اپنے فضل و کرم سے آنمخدوم کی عمر میں برکت بخشے۔ زیادہ تر اس بات میں کوشش کرنی چاہئے کہ کسی طرح مولیٰ کریم راضی ہو جائے۔ ہر یک سعادت اس کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔ دنیا میں جو کچھ انسان رسوم کے طور پر کرتا ہے وہ کچھ چیز نہیں ہے۔ مگر جو کچھ خالصاً مرضات اللہ کے حاصل کرنے کے لئے صدق قدم سے کیا جاتا ہے وہ عمل صالح ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے۔ عمل صالح بڑی ہی نعمت ہے خداوندکریم عمل صالح سے راضی ہو جاتاہے اور قرب حضرت احدیّت حاصل ہوتا ہے مگر جس طرح شراب کے آخری گھونٹ میں نشہ ہوتا ہے اسی طرح عمل صالح کے برکات اُس کی آخری خیر میں مخفی ہوتے ہیں جو شخص آخر تک پہنچتا ہے اور عمل صالح کو اپنے کمال تک پہنچاتا ہے وہ اُس برکات سے متمتع ہو جاتا ہے لیکن جو شخص درمیان سے ہر عمل صالح کو چھوڑ دیتا ہے اور اُس کو اپنے کمال مطلوب تک نہیں پہنچاتا وہ اُن برکات سے محروم رہ جات ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ باوجود اس کے کہ کچھ کچھ عمل صالح بجا لاتے ہیں مگر برکات ان اعمال کے ان میں نمایاں نہیں ہوتے کیونکہ جب تک کوئی میوہ خام ہے وہ پختہ اور رسیدہ میوہ کی لذت نہیں بخش سکتا۔ سب برکتیں کمال میں ہیں اور عمل ناتمام میں کوئی برکت نہیں بلکہ بسا اوقات ناقص العمل انسان کا پچھلا حال پہلے سے بدتر ہو جات ہے اور اُن لوگوں میں جا ملتا ہے کہ خسرۃ الدنیا والاخرۃ ہیں۔ سو حقیقی طور پر عمل صالح اس عمل کو کہا جاتا ہے کہ جو ہر یک